علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب في الاستغفار
باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُرَّةَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنِيهِ، عَنْ جَدِّي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے «أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1517]
سیدنا زید رضی اللہ عنہ (مولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص یوں کہتا ہے: «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں معافی مانگتا ہوں اللہ سے، وہ ذات کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے اور نگرانی کرنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف توبہ اور رجوع کرتا ہوں“ تو اس کو بخش دیا جاتا ہے اگرچہ وہ جہاد سے بھی بھاگا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 118 (3577)، (تحفة الأشراف:3785) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب کفار کی تعداد دوگنی سے زیادہ نہ ہو تو ان کے مقابلے سے میدان جہاد سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے، لیکن استغفار سے یہ گناہ بھی معاف ہو جاتا ہے، تو اور گناہوں کی معافی تو اور ہی سہل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2353)
وللحديث شاھد حسن عند الحاكم (1/511، 2/117، 118)
مشكوة المصابيح (2353)
وللحديث شاھد حسن عند الحاكم (1/511، 2/117، 118)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1517
| من قال أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه غفر له وإن كان قد فر من الزحف |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1517 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1517
1517. اردو حاشیہ: زبان زد عام استغفار کے الفاظ (استغفر الله ربي من كل ذنب واتوب اليه)اگرچہ معناًصحیح ہیں۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ نہیں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ الفاظ کو اختیار کرنا ہی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1517]
Sunan Abi Dawud Hadith 1517 in Urdu
يسار بن زيد مولى النبي ← زيد بن بولا النوبي