سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب الدعاء بظهر الغيب
باب: اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1536
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البروالصلة 7 (1905)، والدعوات 48 (3448)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 11 (3862)، (تحفة الأشراف: 14873)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/258، 348، 434، 478، 517، 523) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2250)
يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند أحمد (2/348 ح 8564) وأبو جعفر المؤذن حسن الحديث حسن له الترمذي وابن حجر العسقلاني
مشكوة المصابيح (2250)
يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند أحمد (2/348 ح 8564) وأبو جعفر المؤذن حسن الحديث حسن له الترمذي وابن حجر العسقلاني
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو جعفر الأنصاري، أبو جعفر أبو جعفر الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | مقبول | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو جعفر الأنصاري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة مأمون |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3448
| ثلاث دعوات مستجابات دعوة المظلوم دعوة المسافر دعوة الوالد على ولده |
جامع الترمذي |
1905
| ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن دعوة المظلوم دعوة المسافر دعوة الوالد على ولده |
سنن أبي داود |
1536
| ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن دعوة الوالد دعوة المسافر دعوة المظلوم |
سنن ابن ماجه |
3862
| ثلاث دعوات يستجاب لهن لا شك فيهن دعوة المظلوم دعوة المسافر دعوة الوالد لولده |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1536 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1536
1536. اردو حاشیہ: یہ تینوں شخصیات بالعموم ایسی ہوتی ہیں۔ کہ ان میں اخلاص صدق رقت قلب اور انکساری بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور ان کی دعا میں خیر اور شر کے دونوں پہلوں ممکن ہیں۔ لہذا بیٹے کو چاہیے کہ باپ کے ساتھ باادب معاون اور مطیع رہے۔ اور اس کی دعائوں سے حصہ حاصل کرنے والا بنے۔ مسافر کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ بھی واضح ہے۔ کہ اس کی بد دعا از حد نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی لئے کسی پر کبھی ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ اور ان حضرات کو بھی یہی لائق ہے کہ اللہ کی رحمتوں کے سائل رہیں۔ اور مشکلات پر صبر کرکے اللہ سے اجر لیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1536]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3862
ماں باپ کی دعا اولاد کے لیے اور مظلوم کی دعا کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3862]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3862]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مظلوم تنگ آکر ظالم کو جو بد دعا دیتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
اس لئے کسی انسان یا حیوان پر ظلم کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔
(2)
بعض اوقات کسی حکمت کی بنا پر مظلوم کی دعا کی قبولیت میں دیر ہوسکتی ہے۔
اس صورت میں صبر کرنا چاہیے صبر سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
نیز مصیبت اور تکلیف کے وقت صبرکرنے سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
والد اور والدہ دونوں کی دعایئں قبول ہوتی ہیں۔
اس لئے انھیں خوش رکھنا چاہیے۔
اور خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
ان سے نا مناسب سلوک کرنا بد زبانی کرنا جب انھیں خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت نہ کرنا ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔
جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے بد دعا نکل سکتی ہے جو یقیناً قبول ہوتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مظلوم تنگ آکر ظالم کو جو بد دعا دیتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
اس لئے کسی انسان یا حیوان پر ظلم کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔
(2)
بعض اوقات کسی حکمت کی بنا پر مظلوم کی دعا کی قبولیت میں دیر ہوسکتی ہے۔
اس صورت میں صبر کرنا چاہیے صبر سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
نیز مصیبت اور تکلیف کے وقت صبرکرنے سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
والد اور والدہ دونوں کی دعایئں قبول ہوتی ہیں۔
اس لئے انھیں خوش رکھنا چاہیے۔
اور خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
ان سے نا مناسب سلوک کرنا بد زبانی کرنا جب انھیں خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت نہ کرنا ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔
جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے بد دعا نکل سکتی ہے جو یقیناً قبول ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3862]
أبو جعفر الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي