سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما تجب فيه الزكاة
باب: کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا مَخْتُومًا بِالْحَجَّاجِيِّ.
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1560 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1560
1560. اردو حاشیہ:
➊ وسق کی مقدار خیر القرون سے ساٹھ صاع ہی معروف اور معین ہے۔
➋ حجاجی:امیر حجاج بن یوسف کی طرف نسبت ہے کہ حکومت کی طرف سے اس پر مہر لگی ہوتی تھی۔
➊ وسق کی مقدار خیر القرون سے ساٹھ صاع ہی معروف اور معین ہے۔
➋ حجاجی:امیر حجاج بن یوسف کی طرف نسبت ہے کہ حکومت کی طرف سے اس پر مہر لگی ہوتی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1560]
المغيرة بن مقسم الضبي ← إبراهيم النخعي