سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب الكنز ما هو وزكاة الحلي
باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟" قُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ:" هُوَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ".
عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1565]
عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں چاندی کی (موٹی موٹی) انگوٹھیاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر زینت کے لیے پہنا ہے اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں“، یا اسی طرح کی کوئی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے جہنم میں لے جانے کے لیے یہی کافی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16200) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1565
| أتؤدين زكاتهن قلت لا أو ما شاء الله قال هو حسبك من النار |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1565 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1565
1565. اردو حاشیہ:
➊ یہ اور مذکورہ بالا احادیث دلیل ہیں کہ استعمال کے زیورات میں بھی زکوۃ واجب ہے۔
➋ ولی امر اور داعی حضرات کو چاہیے کہ لوگوں کو ہمیشہ ان کا انجام یاد دلاتے رہا کریں۔ آخرت کی فکر ہی سے اعمال کی اصلاح اور ان میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔
➌ عورتوں کا یہ شرعی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ اپنی زیب وزینت اور ہار سنگھار صرف اور صرف اپنے شوہروں کی دلداری کے لیے کیا کریں۔
➊ یہ اور مذکورہ بالا احادیث دلیل ہیں کہ استعمال کے زیورات میں بھی زکوۃ واجب ہے۔
➋ ولی امر اور داعی حضرات کو چاہیے کہ لوگوں کو ہمیشہ ان کا انجام یاد دلاتے رہا کریں۔ آخرت کی فکر ہی سے اعمال کی اصلاح اور ان میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔
➌ عورتوں کا یہ شرعی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ اپنی زیب وزینت اور ہار سنگھار صرف اور صرف اپنے شوہروں کی دلداری کے لیے کیا کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1565]
Sunan Abi Dawud Hadith 1565 in Urdu
عبد الله بن شداد الليثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق