🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب أين تصدق الأموال
باب: مال کی زکاۃ کہاں وصول کی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ:عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فِي قَوْلِهِ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، قَالَ: أَنْ تُصَدَّقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبَ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَالْجَنَبُ عَنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفَرِيضَةِ أَيْضًا لَا يُجْنَبُ أَصْحَابُهَا، يَقُولُ: وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ، وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ.
محمد بن اسحاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور «جنب» فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: وہ کہتے ہیں: «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1592]
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» کی توضیح میں بیان کیا: چوپایوں کی زکوٰۃ ان کے اپنے ڈیروں پر وصول کی جائے (جلب یہ ہے کہ) انہیں تحصیلدارِ زکوٰۃ (عامل) کے پاس کھینچ کر نہ لایا جائے اور «جَنَب» اس فریضے میں یہ ہے کہ جانوروں والے انہیں دور نہ لے جائیں۔ (ابن اسحاق نے کہا) عامل کو روا نہیں کہ وہ زکوٰۃ والوں کے مقامات سے بہت دور جا بیٹھے اور جانوروں کو اس کی طرف لایا جائے بلکہ زکوٰۃ ان کی اپنی جگہ پر لی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8785، 19284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180، 216) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس تفسیرکی رو سے «جلب» اور «جنب» کے معنی ایک ہو جا رہے ہیں، اور «جنب» کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جنب» یہ ہے کہ جانوروں کا مالک جانوروں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر دور کر لے تاکہ محصل کو انہیں ڈھونڈنے اور ان کے پاس پہنچنے میں زحمت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكرصدوق مدلس
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ له تصانيف
Sunan Abi Dawud Hadith 1592 in Urdu