سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ"، وَقَالَ عَبَّادٌ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ يَعْنِي الْمِيضَأَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ.
اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ عباد کی روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 1739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء العامري مجھول الحال كما قال ابن القطان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186
إسناده ضعيف
عطاء العامري مجھول الحال كما قال ابن القطان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أوس بن أبي أوس الثقفي، أبو إياس | صحابي | |
👤←👥عطاء العامري عطاء العامري ← أوس بن أبي أوس الثقفي | مقبول | |
👤←👥يعلى بن عطاء العامري يعلى بن عطاء العامري ← عطاء العامري | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يعلى بن عطاء العامري | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥عباد بن موسى الختلي، أبو محمد، أبو إسحاق عباد بن موسى الختلي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← عباد بن موسى الختلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
160
| توضأ ومسح على نعليه وقدميه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 160 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 160
فائدہ:
➊ بشرط صحت (جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے) یہ روایت سابقہ روایت پر محمول ہے۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ اور ”قدموں پر مسح“ سے مراد ایسی صورت ہے جس میں جرابیں پہنی ہوئی تھیں۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوتے یا چپل کی پٹی پر مسح فرمایا جو کہ پاؤں کے اوپر ہوتی ہے۔
➊ بشرط صحت (جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے) یہ روایت سابقہ روایت پر محمول ہے۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ اور ”قدموں پر مسح“ سے مراد ایسی صورت ہے جس میں جرابیں پہنی ہوئی تھیں۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوتے یا چپل کی پٹی پر مسح فرمایا جو کہ پاؤں کے اوپر ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 160]
عطاء العامري ← أوس بن أبي أوس الثقفي