🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب كم يؤدى في صدقة الفطر
باب: صدقہ فطر کتنا دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1612
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا"، فَذَكَرَ بِمَعْنَى مَالِكٍ، زَادَ:" وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ". وَرَوَاهُ سَعِيدٌ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ فِيهِ:" مِنَ الْمُسْلِمِينَ"، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں «والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» ہر چھوٹے اور بڑے پر (صدقہ فطر واجب ہے) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا) کا اضافہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں «على كل مسلم» کے الفاظ ہیں (یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے) ۱؎ اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ (عمری) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1612]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر فرمایا اور مذکورہ بالا روایت مالک رحمہ اللہ کے ہم معنی بیان کی۔ اور مزید کہا: چھوٹے اور بڑے کی طرف سے دیا جائے۔ اور حکم دیا کہ اسے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ العمری عن نافع کی روایت میں «عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» ہر مسلمان پر اور سعید الجمحی بواسطہ عبیداللہ عن نافع کی روایت میں «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں میں سے کے لفظ بیان ہوئے ہیں، مگر مشہور یہ ہے کہ عبیداللہ کی روایت میں «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کے لفظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 70 (1503)، سنن النسائی/الزکاة 33 (2506)، (تحفة الأشراف:8244) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کافر غلام یا کافر لونڈی کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1503) صحيح مسلم (984)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عمر بن نافع القرشي، أبو حفص
Newعمر بن نافع القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← عمر بن نافع القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن جهضم الثقفي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن جهضم الثقفي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن محمد القرشي، أبو عبيد الله، أبو عبيد
Newيحيى بن محمد القرشي ← محمد بن جهضم الثقفي
ثقة
Sunan Abi Dawud Hadith 1612 in Urdu