سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب كَمْ يُؤَدَّى فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر کتنا دیا جائے؟
حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَقَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ أَيْضًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، قَالَ فِيهِ فِيمَا قَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ:" زَكَاةُ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر (فرض) ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1611]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صدقہ فطر فرض فرمایا، اس طرح کہ ”ہر مسلمان آزاد، غلام، مرد اور عورت کی طرف سے کھجور یا جو کا ایک صاع دیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 73 (1506)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن الترمذی/الزکاة 35، 36 (676)، سنن النسائی/الزکاة 33 (2505)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1826)، (تحفة الأشراف:8321)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1504) صحيح مسلم (984)
حدیث نمبر: 1612
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا"، فَذَكَرَ بِمَعْنَى مَالِكٍ، زَادَ:" وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ". وَرَوَاهُ سَعِيدٌ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ فِيهِ:" مِنَ الْمُسْلِمِينَ"، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں «والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» ”ہر چھوٹے اور بڑے پر (صدقہ فطر واجب ہے) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا) کا اضافہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں «على كل مسلم» کے الفاظ ہیں (یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے) ۱؎ اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ (عمری) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1612]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صدقہ فطر ایک صاع مقرر فرمایا“ اور مذکورہ بالا روایت مالک رحمہ اللہ کے ہم معنی بیان کی۔ اور مزید کہا: ”چھوٹے اور بڑے کی طرف سے دیا جائے۔“ اور حکم دیا کہ ”اسے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ العمری عن نافع کی روایت میں «عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» ”ہر مسلمان پر“ اور سعید الجمحی بواسطہ عبیداللہ عن نافع کی روایت میں «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ”مسلمانوں میں سے“ کے لفظ بیان ہوئے ہیں، مگر مشہور یہ ہے کہ عبیداللہ کی روایت میں «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کے لفظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 70 (1503)، سنن النسائی/الزکاة 33 (2506)، (تحفة الأشراف:8244) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کافر غلام یا کافر لونڈی کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1503) صحيح مسلم (984)
حدیث نمبر: 1613
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ،" فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ"، زَادَ مُوسَى: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ فِيهِ: أَيُّوبُ وَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فِي حَدِيثِهِمَا: عَنْ نَافِعٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَيْضًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ (نکرہ کے ساتھ) ذکر کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1613]
سیدنا عبداللہ (ابن عمر) رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صدقہ فطر فرض فرمایا، ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام پر واجب ہے“۔ موسیٰ بن اسماعیل نے ”مرد اور عورت“ کے لفظ بھی کہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس روایت میں ایوب اور عبداللہ العمری بھی نافع سے «ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ» ”مرد اور عورت“ کے الفاظ بیان کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 78 (1512)، (تحفة الأشراف:7795، 7815، 8171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/55) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر الحديث السابق (1612)
وانظر الحديث السابق (1612)
حدیث نمبر: 1614
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ"، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَتِ الْحِنْطَةُ، جَعَلَ عُمَرُ نِصْفَ صَاعٍ حِنْطَةً مَكَانَ صَاعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَشْيَاءِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو، یا انگور نکالتے تھے، جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع (صدقہ فطر) مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1614]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”جو، کھجور، بغیر چھلکے کے جو یا کشمش میں سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے۔“ جناب نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور گندم کی کثرت ہو گئی تو انہوں نے ان اشیاء کے ایک صاع کے بجائے گندم کا آدھا صاع مقرر کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الزکاة 41 (2518)، (تحفة الأشراف:7760) (ضعیف)» (عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم ہے صحیح یہ ہے کہ ایسا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا، عبدالعزیز بن أبی رواد سے یہاں وھم ہو گیا ہے ان سے وہم ہو بھی جایا کرتا تھا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف خ مختصرا نحوه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (2518 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (2518 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ"، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا، عبداللہ (ایک صاع) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے جو دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1615]
جناب نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”پھر لوگ گندم کا آدھا صاع دینے لگے۔“ انہوں نے کہا کہ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھجور دیا کرتے تھے، مگر ایک سال اہل مدینہ کو کھجور کی تنگی آ گئی، تو انہوں نے ”جَو“ دیے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 78 (1511)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (676)، سنن النسائی/الزکاة 30 (2502)، (تحفة الأشراف:7510)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137)، دی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1511) صحيح مسلم (984)
حدیث نمبر: 1616
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَ عَبْدَةُ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ: أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا، اور ابوسعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے «أو صاعًا من حنطة» بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1616]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر میں طعام، پنیر، جو، کھجور یا کشمش (میں سے کسی ایک) کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔ اور ہم یہ اسی طرح دیتے رہے حتیٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے لیے آئے اور برسرِ منبر لوگوں کو خطبہ دیا۔ منجملہ اور باتوں کے انہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا: ”میں سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد (آدھا صاع) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے۔“ چنانچہ لوگوں نے ان کی بات لے لی۔ اس پر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تو جب تک زندہ ہوں ایک صاع ہی دیتا رہوں گا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ روایت ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے بسند ابن اسحاق عن عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام عن عیاض عن ابی سعید، اس کے ہم معنی روایت کی ہے۔ اور اس میں ایک آدمی نے ابن علیہ کی روایت میں «أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ» ”یا ایک صاع گندم کا“ ذکر کیا ہے، مگر یہ محفوظ نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 72 (1505)، 73 (1506)، 75 (1508)، 76 (1510)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (985)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (673)، سنن النسائی/الزکاة 37 (2513)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1829)، (تحفة الأشراف:4269)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (53)، مسند احمد (3/23، 73، 98)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1704) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1505) صحيح مسلم (985)
حدیث نمبر: 1617
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحِنْطَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْهُ.
اس سند سے اسماعیل (اسماعیل ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر: ۱۶۱۶ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے «نصف صاع من بُرٍّ» نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1617]
مسدد بواسطہ اسمٰعیل کی روایت میں ”گندم“ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”معاویہ بن ہشام نے ثوری سے مروی اس حدیث میں ابوسعید سے ”گندم کا آدھا صاع“ ذکر کیا ہے، مگر یہ معاویہ بن ہشام کا یا ان سے روایت کرنے والوں میں سے کسی کا وہم ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:4269) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري مدلس و عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1616) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
إسناده ضعيف
الثوري مدلس و عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1616) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
حدیث نمبر: 1618
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، سَمِعَ عِيَاضًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ:" لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا، إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ"، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، زَادَ سُفْيَانُ: أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، قَالَ حَامِدٌ: فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1618]
جناب عیاض کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: ”میں تو ہمیشہ ایک صاع ہی دیتا رہوں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کھجور، جَو، پنیر یا کشمش میں سے ایک صاع ہی دیا کرتے تھے۔“ یہ روایت یحییٰ کی ہے۔ سفیان کی روایت میں «صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ» ”ایک صاع آٹے کا“ کا ذکر بھی ہے۔ حامد نے کہا: ”علمائے حدیث نے اس اضافے پر انکار کیا تو سفیان نے اسے بیان کرنا چھوڑ دیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ اضافہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد أبو داود بروایة سفیان بن عیینة، وروایة یحییٰ القطان صحیحة موافقة لرقم: 1616، (تحفة الأشراف: 4269) (حسن)» (یحییٰ القطان کی روایت حسن ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہے، اس لئے ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
شاذ
سنده حسن بالظاهر إلا قوله ’’ صاعًا من دقيق ‘‘ فإنه شاذ وانظر الحديثين السابقين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
شاذ
سنده حسن بالظاهر إلا قوله ’’ صاعًا من دقيق ‘‘ فإنه شاذ وانظر الحديثين السابقين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65