🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب في الاستعفاف
باب: سوال سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1645
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے (یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزہد 18 (2326) (تحفة الأشراف:9319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 407، 442) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1852)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن مسعود
له رؤية
👤←👥سيار الكوفي، أبو حمزة
Newسيار الكوفي ← طارق بن شهاب البجلي
مقبول
👤←👥بشير بن سلمان النهدي، أبو إسماعيل
Newبشير بن سلمان النهدي ← سيار الكوفي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← بشير بن سلمان النهدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الملك بن حبيب البزاز، أبو مروان
Newعبد الملك بن حبيب البزاز ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن داود الخريبي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن داود الخريبي ← عبد الملك بن حبيب البزاز
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الله بن داود الخريبي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2326
من نزلت به فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته من نزلت به فاقة فأنزلها بالله فيوشك الله له برزق عاجل أو آجل
سنن أبي داود
1645
من أصابته فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته من أنزلها بالله أوشك الله له بالغنى إما بموت عاجل أو غنى عاجل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1645 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1645
1645. اردو حاشیہ: مومن کو اپنی ضروریات اور مشکلات ااسی ذات کے سامنے پیش کرنی چاہیں۔ جو کسی کی محتاج نہیں۔ اور ہر اعتبار سے الغنی اور المغنی ہے۔لوگ کہاں تک کسی کی دستگیری کرسکتے ہیں۔آج ایک حاجت ہے تو کل دوسری سامنے ہے۔اس لئے ہمیشہ اللہ ہی سے سوال کرنا چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں زندگی کے ادنیٰ واعلیٰ تمام امور سے متعلق دعایئں موجود ہیں۔ان کو اپنا حرز جان اور ورد ایام بنا لینا چاہیے۔عزیمت یہی ہے کہ انسان کسی سے کچھ نہ مانگے جیسے کہ تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسیرت صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کا اوپر زکر آیا ہے۔تاہم دنیا دارلاسباب ہے۔عام ضروریات کا لوگوں سے طلب کرلینا مباح ہے۔اور جو امور ظاہری اسباب سے بالا ہیں۔ان کا سوال صرف اللہ ہی سے کرنا چاہیے۔ان کا غیراللہ سے سوال کرنا شرک ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1645]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2326
دنیا سے محبت اور اس کے غم و فکر میں رہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فاقہ کا شکار ہو اور اس پر صبر نہ کر کے لوگوں سے بیان کرتا پھرے ۱؎ تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو فاقہ کا شکار ہو اور اسے اللہ کے حوالے کر کے اس پر صبر سے کام لے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیر یا سویر روزی دے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2326]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی لوگوں سے اپنی محتاجی اورلاچاری کا تذکرہ کرکے ان کے آگے ہاتھ پھیلائے تو ایسے شخص کی ضرورت کبھی پوری نہیں ہوگی،
اور اگروقتی طورپر پوری ہوبھی گئی تو پھر اس سے زیادہ سخت دوسری ضرورتیں اس کے سامنے آئیں گی جن سے نمٹنا اس کے لیے آسان نہ ہوگا۔

2؎:
چونکہ اس نے صبر سے کام لیا،
اس لیے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں رزق عطا فرمائے گا،
یا آخرت میں اسے ثواب سے نوازے گا،
معلوم ہوا کہ حاجت وضرورت کے وقت انسانوں کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

نوٹ:

 (بموت عاجل أو غني عاجل) کے لفظ سے صحیح ہے،
صحیح سنن أبي داؤد 1452،
الصحیحة: 2887)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2326]