سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في الاستعفاف
باب: سوال سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1646
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنْ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ".
ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1646]
ابن الفراسی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فراسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں سوال کر لیا کروں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر ضرور ہی مانگنا ہو تو صالح اور نیک بندوں سے سوال کر لیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 84 (2588)، (تحفة الأشراف:15524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/334) (ضعیف)» (اس کے راوی مسلم لین الحدیث اور ابن الفراسی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2588)
ابن الفراسي لم أجد من وثقه وھو مجهول،انظر التحرير (8485)
مسلم بن مخشي وثقه ابن حبان وحده فھو مجهول،راجع التحرير (6646)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
إسناده ضعيف
نسائي (2588)
ابن الفراسي لم أجد من وثقه وھو مجهول،انظر التحرير (8485)
مسلم بن مخشي وثقه ابن حبان وحده فھو مجهول،راجع التحرير (6646)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2588
| إن كنت سائلا لابد فاسأل الصالحين |
سنن أبي داود |
1646
| إن كنت سائلا لا بد فاسأل الصالحين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1646 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1646
1646. اردو حاشیہ: یہ روایت تو سند ضعیف ہے۔تاہم اس اعتبارسے معنا صحیح ہے۔کہ دنیا میں اسباب ظاہری کی حد تک انسانوں کو ایک دوسرے سے مانگنے کی ضرورت پیش آتی ہی رہتی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ جب بھی ایسی ضرورت پیش آئے۔ تو اس کا اظہار نیک لوگوں سے کیا کرو۔ کیونکہ صالح افراد کسی بھی ضرورت مند مسلمان کی خیر خواہی اور امکانی حد تک تعاون سے بخیل نہیں ہوتے۔ان کی آمدنی حلال اور ان کے تعاون دینے میں احسان دھرنے والی بات نہیں ہوتی۔اس حدیث کا فوت شدہ افراد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ یہ سوال صرف ان صالح بذرگوں سے ہو سکتا ہے۔جو حیات اور زندہ ہوں۔جو تحت الابواب میں مدد کرسکتے ہیں۔مثلا عام تعاون قرض سفارش اور دعا کرنا وغیرہ۔۔۔ اور ایسے صالحین جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں ان سے مدد مانگنا اور دُعا کرنا حرام اور شرک ہے۔کیونکہ ان سے مدد مانگنا مادراء الاسباب ہے مثلا شفا کےلئے روزی کےلئے اولاد کےلئے نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچانے وغیرہ کےلئے مدد مانگنا قرآن کریم اور صحیح احادیث اس موضوع سے بھرے پڑے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1646]
Sunan Abi Dawud Hadith 1646 in Urdu
مسلم بن مخشي المدلجي ← ابن الفراسي