سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب من تصدق بصدقة ثم ورثها
باب: ایک شخص نے صدقہ دیا پھر اس کا وارث ہو گیا تو اسے لے لے۔
حدیث نمبر: 1656
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، قَالَ:" قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پورا ہو گیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 27 (1149)، سنن الترمذی/الزکاة 31 (667)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 3 (2394)، (تحفة الأشراف:1980)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الفرائض (6315، 6316)، مسند احمد (5/351، 361)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (2877، 3309) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م بزيادة قضيتين أخريين
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1149)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2697
| وجب أجرك وردها عليك الميراث أفأصوم عنها قال صومي عنها قالت أفأحج عنها قال حجي عنها |
جامع الترمذي |
667
| وجب أجرك وردها عليك الميراث أفأصوم عنها قال صومي عنها قالت أفأحج عنها قال نعم حجي عنها |
سنن أبي داود |
1656
| وجب أجرك ورجعت إليك في الميراث |
سنن أبي داود |
2877
| وجب أجرك ورجعت إليك في الميراث قالت ماتت وعليها صوم شهر أفيجزئ عنها أن أصوم عنها قال نعم قالت لم تحج أفيجزئ عنها أن أحج عنها قال نعم |
سنن ابن ماجه |
2394
| آجرك الله ورد عليك الميراث |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1656 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1656
1656. اردو حاشیہ: -1والدین کی خدمت اولاد پر واجب ہے۔اور یہ کہ وہ مالی طور پر بھی ان کی کفالت کریں۔مگر فرضی صدقات ان کو نہیں دیے جاسکتے۔
➋ حدیث میں مذکور صورت صدقہ لوٹا لینے کی معروف صورت نہیں ہے جو منع ہے۔
➋ حدیث میں مذکور صورت صدقہ لوٹا لینے کی معروف صورت نہیں ہے جو منع ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1656]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2877
آدمی کوئی چیز ہبہ کر دے پھر وصیت یا میراث سے وہی چیز پا لے تو کیسا ہے؟
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی“، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ۱؎“، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2877]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی“، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ۱؎“، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2877]
فوائد ومسائل:
1۔
والدین کی مادی ومعنوی خدمت اور مدد کرنا اہم تین فضائل میں سے ہے۔
اور بڑے اجر کا کام ہے۔
2۔
صدقہ اور ہدیہ اگر بطور ورثہ واپس مل جائے۔
تو اس کا مالک بننا جائز ہے۔
اسی طرح لینا اس ذیل میں نہیں آتا۔
جس میں صدقہ اور ہبہ واپس لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
3۔
میت کے ذمے اگر روزے باقی ہوں تو وارث کو اس کی قضا کرنی چاہیے۔
4۔
اس طرح میت کی طرف سے حج بھی ہوسکتا ہے۔
1۔
والدین کی مادی ومعنوی خدمت اور مدد کرنا اہم تین فضائل میں سے ہے۔
اور بڑے اجر کا کام ہے۔
2۔
صدقہ اور ہدیہ اگر بطور ورثہ واپس مل جائے۔
تو اس کا مالک بننا جائز ہے۔
اسی طرح لینا اس ذیل میں نہیں آتا۔
جس میں صدقہ اور ہبہ واپس لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
3۔
میت کے ذمے اگر روزے باقی ہوں تو وارث کو اس کی قضا کرنی چاہیے۔
4۔
اس طرح میت کی طرف سے حج بھی ہوسکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2877]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2697
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آ گئی اور اس نے پوچھا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی اور اب میری ماں فوت ہوئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر ثابت ہو گیا اور وراثت کی بنا پر تیری لونڈی واپس مل گئی۔“ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ ایک ماہ کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2697]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
اگر کوئی انسان صدقہ کرتا ہے اور وہ صدقہ وراثت کی بناء پر اس کے پاس واپس آ جاتا ہے تو اس کے لیے اس کا لینا جائز ہے اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔
2۔
والدین کی طرف سے نفلی حج بھی کیا جا سکتا ہے۔
3۔
ولی رمضان کے روزوں کی طرح میت کی طرف سے نذر کے روزے بھی رکھ سکتا ہے اگرچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزے رکھنے جائز نہیں ہیں اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتا اور نذر کے روزے رکھ سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
1۔
اگر کوئی انسان صدقہ کرتا ہے اور وہ صدقہ وراثت کی بناء پر اس کے پاس واپس آ جاتا ہے تو اس کے لیے اس کا لینا جائز ہے اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔
2۔
والدین کی طرف سے نفلی حج بھی کیا جا سکتا ہے۔
3۔
ولی رمضان کے روزوں کی طرح میت کی طرف سے نذر کے روزے بھی رکھ سکتا ہے اگرچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزے رکھنے جائز نہیں ہیں اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتا اور نذر کے روزے رکھ سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2697]
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي