سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب الرجل يخرج من ماله
باب: اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1673
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى".
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کر دیتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1673]
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا، اس کے پاس انڈے کے برابر سونا تھا، کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان سے ملا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے لیجیے، یہ صدقہ ہے، میرے پاس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب سے آیا اور پہلے کی طرح کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب سے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وہ سونا لے کر پھینک دیا۔ اگر وہ اسے لگتا تو اس سے اس کو چوٹ لگتی بلکہ وہ اسے زخمی کر دیتا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنا سب مال لے کر آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے۔ پھر لوگوں سے مانگنے بیٹھ جاتا ہے۔ بہترین صدقہ وہی ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد دیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3097)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 25 (1700) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف إنما يصح منه جملة خير الصدقة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1673
| يأتي أحدكم بما يملك فيقول هذه صدقة ثم يقعد يستكف الناس خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1673 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1673
1673. اردو حاشیہ: اس روایت کا صرف آخری جملہ صحیح اور ثابت ہے۔ اور آئندہ حدیث 1676 میں آرہا ہے۔ اس لئے یہ واقعہ تو صحیح نہیں ہے۔لیکن اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول کا مفہوم ومعنی دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1673]
Sunan Abi Dawud Hadith 1673 in Urdu
محمود بن لبيد الأشهلي ← جابر بن عبد الله الأنصاري