🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ". قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: عَنْ عَمْرٍو.
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، ابن موہب نے «أخبرني عمرو» کے بجائے «عن عمرو» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1719]
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیزیں اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ ابن وہب نے کہا: حاجی کی چیز پڑی رہنے دی جائے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پالے۔ ابن موہب نے (اپنی سند میں) «عَنْ عَمْرٍو» کہا ہے ( «أَخْبَرَنِي عَمْرٌو» نہیں کہا)۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏م /اللقطة 1 (1724)، سنن النسائی/ الکبری/ اللقطة (5805)، (تحفة الأشراف:9705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/499) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1724)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عثمان القرشيصحابي
👤←👥يحيى بن عبد الرحمن اللخمي، أبو محمد، أبو بكر
Newيحيى بن عبد الرحمن اللخمي ← عبد الرحمن بن عثمان القرشي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← يحيى بن عبد الرحمن اللخمي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن خالد الهمداني، أبو خالد
Newيزيد بن خالد الهمداني ← أحمد بن صالح المصري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4509
نهى عن لقطة الحاج
سنن أبي داود
1719
نهى عن لقطة الحاج
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1719 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1719
1719. اردو حاشیہ: راجح یہی ہے کہ حاجیوں کی گری پڑی اشیاء نہ اٹھائی جائیں تاکہ اس شہر کی حرمت اپنے وسیع تر معانی میں قائم اور ثابت رہے تاہم اگر ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوتو رخصت ہے کہ اٹھا لی جائے۔جیسے کہ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس سے مرفوع احادیث میں آیا ہے۔دیکھیے: (صحیح البخاری اللقطة حدیث:2433 2434 وصحیح مسلم اللقطة حدیث:1724)اور خوب کثرت سے اعلان کرنا چاہیے۔ممکن ہے یہ چیز کسی آفاقی حاجی کی ہو۔نہ معلوم اسے دوبارہ یہاں آنا میسر بھی آتاہے یا نہیں۔علامہ ابن القیم ﷫ بھی یہی فرماتے ہیں کہ چونکہ حجاج بڑی جلدی اپنے علاقوں کو واپس چلے جاتے ہیں اس لیے پورے سال تک اس کا اعلان ممکن نہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ چیز نہ اٹھائی جائے اور اگر اٹھائی جائے تو بہت جلد اور بار بار اعلان کیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1719]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4509
حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4509]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجیوں کی گری پڑی چیز نہیں اٹھانی چاہیے،
تاکہ وہ خود اٹھا سکیں،
کیونکہ عام طور پر حاجی وہ اشیاء ساتھ لے جاتے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہوتی ہے،
اس لیے ان کو اپنی گمشدہ چیز کا جلد ہی احساس ہو جاتا ہے اور آج کل تو حرم میں اس کے لیے ایک محکمہ بنا دیا گیا ہے جس کے پاس گمشدہ چیز جمع کرائی جا سکتی ہے اور لوگ اس کی طرف مراجعت بھی کرتے ہیں،
لیکن اگر ایسی جگہ ملے،
جہاں اگر نہ اٹھائی جائے تو اس کے ضائع ہونے کا احتمال ہوتا ہے تو پھر اس کی تشہیر کی نیت سے اٹھا لینا چاہیے،
ملکیت کی نیت سے نہیں کہ معلوم نہیں اس کا مالک کس ملک کا ہو گا اور اب پھر کبھی حج کے لیے آ بھی سکے گا یا نہیں اور تشہیر کے بعد اس کا میرے پاس آنا ممکن ہو گا یا نہیں،
بلکہ تشہیر ہی کی نیت سے اٹھائے،
امام شافعی کی رائے کے مطابق تو اس کی تشہیر ہمیشہ کرنا ہو گی،
اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا،
امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے،
لیکن مشہور قول کی رو سے ان کے نزدیک،
حل اور حرم (مکہ،
غیر مکہ)
میں کوئی فرق نہیں ہے،
امام ابو حنیفہ اور امام مالک کا موقف یہی ہے،
حضرت ابن عمر،
حضرت ابن عباس،
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے یہی منقول ہے،
تفصیل کے لیے دیکھئے،
(المغني ج 8،
ص 315-316)
بہرحال بہتر یہی ہے کہ اٹھا کر گمشدگی کا اعلان اور حفاظت کرنے والے محکمہ کے سپرد کر دے اور جہاز میں ملے تو فوراً تشہیر کر دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4509]

Sunan Abi Dawud Hadith 1719 in Urdu