🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب في الهدى إذا عطب قبل أن يبلغ
باب: ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ؟ قَالَ:" تَنْحَرُهَا، ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، أَوْ قَالَ: مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ:" وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ"، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ:" ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا مَكَانَ اضْرِبْهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 66 (1325)، سنن النسائی/الکبری /الحج (4136)، وانظر أیضا ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 244، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1325)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥موسى بن سلمة الهذلي
Newموسى بن سلمة الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← موسى بن سلمة الهذلي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة حافظ
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3216
انحرها ثم اصبغ نعليها في دمها ثم اجعله على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك
سنن أبي داود
1763
تنحرها ثم تصبغ نعلها في دمها ثم اضربها على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أصحابك أو قال من أهل رفقتك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1763 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1763
1763. اردو حاشیہ:
➊ ہدی کا جانور راستے میں لاچار ہو جائے یا ہلاک ہونے لگے تو اس کو وہیں نحر یا ذبح کر دیا جائے اس کے پائے اور کوہان پر خون سے نشان لگانا اس لیے ہے کہ عام لوگوں کو خبر رہے کہ ہدی کاجانور تھا۔ہدی لے جانے والے خود اس سے کچھ نہ کھائیں۔
➋ بالمعنی روایت کرنے اور اس کے جائز ہونے کی دوشرطیں ہیں ایک تو سند صحیح ہو دوسری یہ کہ وہ حدیث بھی صحیح المعنی ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1763]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3216
موسیٰ بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلا، اور وہ راستہ میں ٹھہر گیا، تو سنان، اس کے معاملہ میں بے بس ہو گیا، کہ اگر وہ اونٹ تھک ہار گیا، تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے، اس نے سوچا، اگر میں مکہ مکرمہ پہنچ گیا، تو میں اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، اس نے بتایا، میں دوپہر کے وقت چل پڑا، تو جب ہم بطحاء میں اترے، اس نے کہا، آؤ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3216]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اَزْحَفَتْ عَلَيْهِ:
تھک ہار کر رک گیا۔
(2)
عَيَ بِشَأْنِهَا:
وہ اس کا حکم،
مسئلہ جاننے سے عاجز آ گیا۔
(3)
اُبْدِعَتْ:
تھک ہار کر ٹھہر گیا،
چلنے کے قابل نہ رہا۔
(4)
اَهْلُ رُفْقَتِكَ:
تیرے رفیق اور قافلہ کے لوگ۔
فوائد ومسائل:
قربانی کا جو جانور راستہ میں تھک ہار کر چلنے کے قابل نہ رہے تو اس کو ذبح کر کے اس کے گلے میں جو جوتیوں کا ہار تھا اسے خون میں رنگ کر اس پر ڈال دیں،
تاکہ پتہ چل سکے یہ حج کی قربانی کا جانور ہے،
جسے دوسرے لوگ کھا سکتے ہیں لیکن قافلہ میں شریک لوگ اس کو نہیں کھا سکتے،
جمہور (امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
احمد رحمۃ اللہ علیہ)
کا یہی نظریہ ہے،
اگر ہدی واجب تھی (یعنی تمتع اور قران کے لیے تھی)
تو اس کی جگہ اور قربانی کرنا ہو گی اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر قربانی نفلی تھی تو پھر اس کا کھانا کھلانا اور بیچنا درست ہے،
اگر قربانی واجب ہو اور انسان اس کو ذبح نہ کرے تو پھر اس کا دودھ استعمال کر سکتا ہے،
چونکہ اس نے اس کی جگہ دوسرا جانور خرید لیا ہے،
نفلی کی صورت میں عوض نہیں ہے،
اس لیے اس کو ذبح کرنا ہو گا جمہور کا یہی موقف ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3216]