🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب فِي الْهَدْىِ إِذَا عَطِبَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ
باب: ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ، فَقَالَ:" إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَانْحَرْهُ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ".
ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا: اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1762]
سیدنا ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اپنی قربانی بھجوائی اور انہیں فرمایا: اگر ان میں سے کوئی جانور ہلاک ہونے لگے تو اسے نحر کر دینا، اس کے جوتے کو اس کے خون سے رنگ دینا، پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دینا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 71 (910)، سنن النسائی/الکبری /الأطعمة (6639)، سنن ابن ماجہ/المناسک 101 (3106)، (تحفة الأشراف: 11581)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 47(148)، مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/المناسک 66 (1950) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2642)
أخرجه الترمذي (910 وسنده صحيح) وابن ماجه (3106 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2577 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ؟ قَالَ:" تَنْحَرُهَا، ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، أَوْ قَالَ: مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ:" وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ"، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ:" ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا مَكَانَ اضْرِبْهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1763]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور اس کے ساتھ قربانی کے اٹھارہ اونٹ روانہ کیے۔ وہ عرض کرنے لگے: فرمائیے اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں گھسیٹنے لگے (چلنے سے لاچار ہو جائے اور تھک جائے تو؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نحر کر دینا، اس کے جوتوں کو خون سے لتھیڑ کر اس کی کوہان پر نشان لگا دینا اور تم یا تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی اس سے نہ کھائے۔ حدیث کے لفظ «مِنْ أَصْحَابِكَ» تمہارے ساتھیوں میں سے تھے یا «أَهْلِ رُفْقَتِكَ» تمہارے قافلے والوں میں سے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ جملہ «وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ» اور نہ تم خود اس میں سے کھانا اور نہ تمہارے قافلے والوں میں سے کوئی کھائے منفرد ہے، اور عبدالوارث کی روایت میں «ثُمَّ اضْرِبْهَا» پھر اسے مارو کی بجائے «اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا» اسے اس کے پہلو پر رکھ دو آیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل منقری رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: جب تم نے حدیث کی سند اور اس کے معنی صحیح اور درست طور پر بیان کر دیے تو کافی ہے (الفاظ بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی روایت بالمعنی جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 66 (1325)، سنن النسائی/الکبری /الحج (4136)، وانظر أیضا ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 244، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1325)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى ابْنَا عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثَلَاثِينَ بِيَدِهِ، وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس (۳۰) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1764]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے اونٹ نحر کیے تو تیس اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور باقی کے متعلق مجھے حکم فرمایا اور میں نے انہیں نحر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10221) (منکر)» ‏‏‏‏ (یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (63) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی رضی اللہ عنہ نے کئے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق سمعه من رجل،مجهول،عن ابن أبي نجيح به(أحمد 1/ 260)
وابن أبي نجيح مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں