🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. باب ما يفعل بالهدي إذا عطب في الطريق:
باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1325 ترقیم شاملہ: -- 3216
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ "،
ہمیں عبدالوارث بن سعید نے ابوتیاح ضبعی سے خبر دی (کہا) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے (یہ سمجھنے سے) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ کیسے لائیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں بلد (امین مکہ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پوچھوں گا۔ (موسیٰ نے) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ کہا انہوں نے ان کو اپنی قربانی کے جانور کا حال بتایا تو انہوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس پہنچے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پاس قربانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنایا۔ کہا وہ (تھوڑی دور) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں ڈالے گئے) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انہیں (بطور نشانی) اس کے پہلو پر رکھ دینا۔ اور (احرام کی حالت میں) تم اور تمہارے ساتھ جانے والوں میں سے کوئی اس (کے گوشت میں) سے کچھ نہ کھائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3216]
موسیٰ بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلا اور وہ راستہ میں ٹھہر گیا، تو سنان اس کے معاملہ میں بے بس ہو گیا کہ اگر وہ اونٹ تھک ہار گیا تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے، اس نے سوچا اگر میں مکہ مکرمہ پہنچ گیا تو میں اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، اس نے بتایا: میں دوپہر کے وقت چل پڑا، تو جب ہم بطحاء میں اترے اس نے کہا: آؤ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے گفتگو کریں، اس نے جا کر ان سے اپنی قربانی کی صورت حال بیان کی تو انہوں نے فرمایا: تم نے مسئلہ واقف کار سے دریافت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی سپرداری میں سولہ (16) قربانیاں روانہ فرمائیں، وہ شخص چل پڑا پھر واپس آ گیا اور پوچھنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی تھک ہار کر بیٹھ جائے تو میں اس کا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر کے، اس کے گلے میں دونوں جوتے، اس کے خون میں رنگ دینا، پھر اس کے پہلو پر رکھ دینا پھر تو اور تیرے رفقاء میں سے کوئی بھی اس سے نہ کھائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1325
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥موسى بن سلمة الهذلي
Newموسى بن سلمة الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← موسى بن سلمة الهذلي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3216
انحرها ثم اصبغ نعليها في دمها ثم اجعله على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك
سنن أبي داود
1763
تنحرها ثم تصبغ نعلها في دمها ثم اضربها على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أصحابك أو قال من أهل رفقتك
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3216 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3216
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اَزْحَفَتْ عَلَيْهِ:
تھک ہار کر رک گیا۔
(2)
عَيَ بِشَأْنِهَا:
وہ اس کا حکم،
مسئلہ جاننے سے عاجز آ گیا۔
(3)
اُبْدِعَتْ:
تھک ہار کر ٹھہر گیا،
چلنے کے قابل نہ رہا۔
(4)
اَهْلُ رُفْقَتِكَ:
تیرے رفیق اور قافلہ کے لوگ۔
فوائد ومسائل:
قربانی کا جو جانور راستہ میں تھک ہار کر چلنے کے قابل نہ رہے تو اس کو ذبح کر کے اس کے گلے میں جو جوتیوں کا ہار تھا اسے خون میں رنگ کر اس پر ڈال دیں،
تاکہ پتہ چل سکے یہ حج کی قربانی کا جانور ہے،
جسے دوسرے لوگ کھا سکتے ہیں لیکن قافلہ میں شریک لوگ اس کو نہیں کھا سکتے،
جمہور (امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
احمد رحمۃ اللہ علیہ)
کا یہی نظریہ ہے،
اگر ہدی واجب تھی (یعنی تمتع اور قران کے لیے تھی)
تو اس کی جگہ اور قربانی کرنا ہو گی اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر قربانی نفلی تھی تو پھر اس کا کھانا کھلانا اور بیچنا درست ہے،
اگر قربانی واجب ہو اور انسان اس کو ذبح نہ کرے تو پھر اس کا دودھ استعمال کر سکتا ہے،
چونکہ اس نے اس کی جگہ دوسرا جانور خرید لیا ہے،
نفلی کی صورت میں عوض نہیں ہے،
اس لیے اس کو ذبح کرنا ہو گا جمہور کا یہی موقف ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3216]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1763
ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1763]
1763. اردو حاشیہ:
➊ ہدی کا جانور راستے میں لاچار ہو جائے یا ہلاک ہونے لگے تو اس کو وہیں نحر یا ذبح کر دیا جائے اس کے پائے اور کوہان پر خون سے نشان لگانا اس لیے ہے کہ عام لوگوں کو خبر رہے کہ ہدی کاجانور تھا۔ہدی لے جانے والے خود اس سے کچھ نہ کھائیں۔
➋ بالمعنی روایت کرنے اور اس کے جائز ہونے کی دوشرطیں ہیں ایک تو سند صحیح ہو دوسری یہ کہ وہ حدیث بھی صحیح المعنی ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1763]

Sahih Muslim Hadith 3216 in Urdu