سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الإقران
باب: حج قران کا بیان۔
حدیث نمبر: 1796
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَاتَ بِهَا، يَعْنِي بِذِي الُحُلَيْفَةِ، حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ اللَّهُ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ، يَعْنِي أَنَسًا، مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ: بَدَأَ بِالْحَمْدِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ (مکہ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے (یعنی انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1796]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر کے بعد) اپنی سواری پر سوار ہوئے حتیٰ کہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر میدان بیداء میں سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد، تسبیح اور تکبیر پکاری۔ پھر حج اور عمرے کا تلبیہ کہا اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا تلبیہ کہا۔ پھر جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو وہ حلال ہو گئے (ان لوگوں کو جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں) حتیٰ کہ جب آٹھویں تاریخ آئی تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹنیاں نحر کیں، اس حال میں کہ وہ کھڑی ہوئی تھیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا انس رضی اللہ عنہ اس روایت میں اس بات میں منفرد ہیں کہ انہوں نے اللہ کی حمد، تسبیح اور تکبیر کہی، پھر حج کا تلبیہ کہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 24، (1547)، 25 (1548)، 27 (1551)، 119 (1715)، الجہاد 104 (2951)، 126 (2986)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 1 (690)، سنن النسائی/الضحایا 13 (4392)، ویأتي ہذا الحدیث برقم (2793)، (تحفة الأشراف: 947) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور باقی اونٹوں کو علی رضی اللہ عنہ نے ذبح (نحر) کیا، کل سو اونٹ تھے، جو ذبح کئے گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1551)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4354
| من لم يكن معه هدي فليجعلها عمرة كان مع النبي هدي بم أهللت فإن معنا أهلك قال أهللت بما أهل به النبي قال فأمسك فإن معنا هديا |
صحيح البخاري |
1558
| بما أهل به النبي فقال لولا أن معي الهدي لأحللت |
صحيح مسلم |
3026
| أهللت بإهلال النبي قال لولا أن معي الهدي لأحللت |
جامع الترمذي |
956
| أهللت بما أهل به رسول الله لولا أن معي هديا لأحللت |
سنن أبي داود |
1796
| أهل بحج وعمرة وأهل الناس بهما لما قدمنا أمر الناس فحلوا حتى إذا كان يوم التروية أهلوا بالحج ونحر رسول الله سبع بدنات بيده قياما |
سنن النسائى الصغرى |
2934
| لولا أن معي الهدي لأحللت فحل القوم حتى حلوا إلى النساء ولم يحل رسول الله ولم يقصر إلى يوم النحر |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1796
| بات بالمعرس حتى يغتدي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1796 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1796
1796. اردو حاشیہ: ان احادیث کے بیانات میں تعارض نہیں بلکہ تنوع ہے۔ حضرات صحابہ سامعین وناظرین کو جو جو معلوم ہوا انہوں نے وہی بیان کر دیا۔گزشتہ احادیث میں ہے کہ آپ نے نماز ظہر کے بعد اپنے مصلے ہی پر تلبیہ کہا پھر سواری پر بیٹھ کر کہا پھر بیداء کی بلندی پر چڑھنے ہوئے کہا اور یہ سب برحق ہیں اور اس اثنا میں تسبیح وتکبیر بلاشبہ جائز بلکہ مطلوب عمل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1796]
Sunan Abi Dawud Hadith 1796 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري