🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب ما يلبس المحرم
باب: محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1824
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1824]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الحج 18 (1539)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن النسائی/ الحج 30 (2670)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 19 (2929)، (2932)، (تحفة الأشراف: 8325)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 3 (8)، مسند احمد (2/63)، دی/ المناسک 9 (1839) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1542) صحيح مسلم (1177)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1824 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1824
1824. اردو حاشیہ:
➊ عورت کے لیے احرام کی چادریں پہننا ضروری نہیں۔ بلکہ وہ شلوار قمیص اور دو پٹے اور پردے ہی میں احرام باندھے گی۔ البتہ خوشبو وہ بھی استعمال نہیں کر سکتی بالخصوص ورس اور زعفران۔اسی طرح دستانے بھی نہیں پہن سکتی۔البتہ جرابیں یا موزے نہ صرف یہ کہ وہ پہن سکتی ہیں بلکہ ان کا پہنا ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ ان میں زیادہ پردہ ہے۔
➋ مردوں کے لیے صحیح قول کےمطابق موزوں کا پہننا بھی جائز ہےخواہ وہ کٹے ہوئے نہ بھی ہوں۔جبکہ جمہور کی رائے یہ ہے کہ انہیں کاٹ لے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب جوتے نہ ہوں تو موزوں کا کاٹنا لازم نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عرفہ میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: جس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو تو وہ شلوار پہن لے۔ (صحیح البخاری جزاء الصید حدیث:1841 وصحیح مسلم الحج حدیث:1178) اس حدیث میں آپ نے موزے کاٹنے کا حکم نہیں دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ جس حدیث میں موزے کاٹنے کاحکم ہے وہ ابتدائے احرام کاتھا اور دوسرا حکم عرفہ کے دن کا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کاٹنے کا حکم منسوخ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1824]

Sunan Abi Dawud Hadith 1824 in Urdu