🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب ما يلبس المحرم
باب: محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1828
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ وَجَدَ الْقُرَّ، فَقَالَ:" أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا يَا نَافِعُ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1828]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں سردی لگی تو انہوں نے کہا: اے نافع! مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو۔ چنانچہ میں (نافع) نے ان پر ایک «بُرْنُس» (ایک قمیص جس کا ایک حصہ بطور ٹوپی استعمال ہوتا ہے) ڈال دی، تو وہ بولے: مجھ پر یہ ڈال رہا ہے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/141، 148) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2692)
أخرجه الحميدي (696 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← أيوب السختياني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1828
ألقيت عليه برنسا فقال تلقي علي هذا وقد نهى رسول الله أن يلبسه المحرم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1828 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1828
1828. اردو حاشیہ: بزنس باقاعدہ پہننا منع ہے ویسے اوڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں مگر حضرت ابن عمر کا تقوی اور جذبہ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر شدید تھا کہ انہوں نے اسے عام صورت میں بھی اوڑھنے سے گزیر کا اظہار فرمایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1828]

Sunan Abi Dawud Hadith 1828 in Urdu