الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في المحرمة تغطي وجهها
باب: محرم عورت اپنا منہ ڈھانپے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 23 (2935)، (تحفة الأشراف: 17577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/30) (حسن)» (اس کے راوی یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں، لیکن اس باب میں اسماء کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی 433)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2935)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2935)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله يزيد بن أبي زياد الهاشمي ← مجاهد بن جبر القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله أحمد بن حنبل الشيباني ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ فقيه حجة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1833 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1833
1833. اردو حاشیہ: یہ سند اگرچہ قدرے ضعیف ہے مگردیگر اثار سے مسئلہ اسی طرح ہے کہ عورت حالت احرام میں بھی اجنبیوں سے پردہ کرے۔موطا امام مالک میں ہے۔ فاطمہ بنت مندر بیان کرتی ہیں۔ کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہرے ڈھانپا کرتی تھیں۔اور اسماء بنت ابی بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہمارے ساتھ ہوتی تھیں۔(باب تخمیر المحرم وجھہ)نیز (ارواء الغلیل حدیث 1023)مگر موجودہ صورت حال پردے کے معاملے میں انتہائی پریشان کن ہے کہ حیاء وشرم گویا اٹھتی جارہی ہے۔الا ماشاء اللہ مزید تفصیل کےلئے حدیث نمبر 1825) کے فوائد ومسائل ملاحظہ ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1833]
مجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق