یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب الطواف الواجب
باب: طواف واجب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ، قَالَتْ: وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1878]
سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں اطمینان حاصل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر (سوار ہو کر) طواف کیا۔“ کہتی ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عصا سے «رُکْن» (حجر اسود) کا استلام فرماتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 28 (2947)، (تحفة الأشراف: 15909) (حسن)» سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے ملاحظہ ہو صحیح أبی داود (1641)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2947 وسنده حسن) وحسنه المزي
أخرجه ابن ماجه (2947 وسنده حسن) وحسنه المزي
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1878
| طاف على بعير يستلم الركن بمحجن في يده قالت وأنا أنظر إليه |
سنن ابن ماجه |
2947
| طاف على بعيره يستلم الركن بمحجن بيده دخل الكعبة |
Sunan Abi Dawud Hadith 1878 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية