یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب في رمى الجمار
باب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا".
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں؟ آپ نے کہا: جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو، میں نے پھر یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1972]
وبرہ (بن عبدالرحمٰن سلمی) کہتے ہیں، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”میں کس وقت جمرات کو کنکریاں ماروں؟“ انہوں نے کہا: ”جب تمہارا امام مارے تم بھی مار لو۔“ میں نے اپنا سوال دہرایا تو بولے: ”ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ جب سورج ڈھل جاتا تو رمی کرتے تھے (قربانی والے دن کے بعد کے ایام میں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 134 (1746)، (تحفة الأشراف: 8554) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1746)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1972 in Urdu
وبرة بن عبد الرحمن المسلي ← عبد الله بن عمر العدوي