🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب في رمى الجمار
باب: رمی جمرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1973]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دس تاریخ کو قربانی والے دن) ظہر پڑھ لینے کے بعد دن کے آخری حصے میں طوافِ افاضہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ لوٹ آئے اور ایامِ تشریق کی راتیں یہیں ٹھہرے رہے۔ سورج ڈھلنے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارتے تھے۔ ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے۔ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کافی لمبی دیر رکتے اور اپنی عاجزی اور تضرع کا اظہار کرتے (دعائیں کرتے)، پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارتے مگر اس کے پاس نہیں رکتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن «‏‏‏‏صلی الظہر» - ظہر پڑھی- کا جملہ صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله حين صلى الظهر فهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2676)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن القاسم التيمي ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي
صدوق مدلس
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
👤←👥علي بن بحر القطان، أبو الحسن
Newعلي بن بحر القطان ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1973
أفاض رسول الله من آخر يومه حين صلى الظهر ثم رجع إلى منى مكث بها ليالي أيام التشريق يرمي الجمرة إذا زالت الشمس كل جمرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة يقف عند الأولى والثانية فيطيل القيام ويتضرع يرمي الثالثة ولا يقف عندها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1973 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1973
1973. اردو حاشیہ:
➊ دسویں تاریخ (یوم النحر) کو سورج نکلنے کے بعد ایک جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اور باقی دنوں میں تینوں جمرات کو زوال کے بعد۔
➋ پہلے اور دوسرے جمرے کو رمی کرنے کے بعد ہاتھ اٹھاکر لمبی دعا سنت ہےتیسرے کے پاس نہیں
➌ اس حدیث میں «حين صلى الظهر» ظہرپڑھ لینے کے بعد کے الفاظ منکر ہیں (شیخ البانی ‎)۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1973]

Sunan Abi Dawud Hadith 1973 in Urdu