سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب في رمى الجمار
باب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1978
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ لَمْ يَرَ الزُّهْرِيَّ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1978]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (دسویں تاریخ کو) جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے بیویوں کے سوا ہر شے حلال ہو گئی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ حدیث ضعیف ہے۔ حجاج (حجاج بن ارطاۃ) نے زہری کو نہ دیکھا ہے اور نہ اس سے کچھ سنا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17926)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/143) (صحیح)» (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: بیویوں سے صحبت یا بوس وکنار اس وقت جائز ہو گا جب حاجی طواف زیارت سے فارغ ہو جائے۔
۲؎: مسند احمد کی سند میں زہری کی جگہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ہیں حجاج بن أرطاۃ کا ان سے سماع ثابت ہے، نیز حدیث کے دیگر شواہد بھی ہیں۔
۲؎: مسند احمد کی سند میں زہری کی جگہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ہیں حجاج بن أرطاۃ کا ان سے سماع ثابت ہے، نیز حدیث کے دیگر شواہد بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
إسناده ضعيف
الحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة الحجاج بن أرطاة النخعي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق كثير الخطأ والتدليس | |
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر عبد الواحد بن زياد العبدي ← الحجاج بن أرطاة النخعي | ثقة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الواحد بن زياد العبدي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1978
| إذا رمى أحدكم جمرة العقبة فقد حل له كل شيء إلا النساء |
بلوغ المرام |
633
| إذا رميتم وحلقتم فقد حل لكم الطيب وكل شيء إلا النساء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1978 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1978
1978. اردو حاشیہ: اس حدیث کی صحت وضعف میں اگرچہ اختلاف ہےتاہم دیگر احادیث سے مسئلہ اسی طرح ثابت ہے کہ دسویں تاریخ کو زمی کے بعد حاجی کے لیے بیوی کے علاوہ دیگر ممنوعات حلال ہو جاتی ہیں۔ اسے اصطلاحاً حل ناقص یا حل اصغرکہتے ہیں طواف افاضہ کے بعد بیوی سے بھی مباشرت (ہم بستری) ہو سکتی ہےاوراسےحل کامل یا حل اکبر کہتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1978]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 633
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کنکریاں مار چکو اور سر کے بال منڈوا لو تو تمہارے لیے خوشبو اور بیویوں کے علاوہ ہر چیز حلال ہو گئی۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 633]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کنکریاں مار چکو اور سر کے بال منڈوا لو تو تمہارے لیے خوشبو اور بیویوں کے علاوہ ہر چیز حلال ہو گئی۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 633]
633لغوی تشریح:
«الا النساء» یعنی بیویوں سے مجامعت جائز نہیں، کیونکہ بیویوں سے مباشرت و ہم بستری طواف افاضہ کے بعد جائز ہوتی ہے۔
«و فى اسناده ضعف» اس لیے کہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاۃ ایسا راوی ہے جس کے متعلق کلام ہے۔ تاہم دیگر صحیح احادیث سے مسئلہ اسی طرح ثابت ہے کہ دسویں تاریخ کو رمی کے بعد حاجی کے لیے بیوی کے علاوہ دیگر ممنوعات حلال ہو جاتی ہیں۔
«الا النساء» یعنی بیویوں سے مجامعت جائز نہیں، کیونکہ بیویوں سے مباشرت و ہم بستری طواف افاضہ کے بعد جائز ہوتی ہے۔
«و فى اسناده ضعف» اس لیے کہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاۃ ایسا راوی ہے جس کے متعلق کلام ہے۔ تاہم دیگر صحیح احادیث سے مسئلہ اسی طرح ثابت ہے کہ دسویں تاریخ کو رمی کے بعد حاجی کے لیے بیوی کے علاوہ دیگر ممنوعات حلال ہو جاتی ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 633]
Sunan Abi Dawud Hadith 1978 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق