سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب الحلق والتقصير
باب: بال منڈانے اور کٹوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْبَغْدَادِيُّ ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» (بال کٹانا) ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2654)
ابن جريج صرح بالسماع عند الدارمي (1911) وحسنه الحافظ ابن حجر في التلخيص الحبير (2/261)
مشكوة المصابيح (2654)
ابن جريج صرح بالسماع عند الدارمي (1911) وحسنه الحافظ ابن حجر في التلخيص الحبير (2/261)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1985
| ليس على النساء الحلق إنما على النساء التقصير |
سنن أبي داود |
1984
| ليس على النساء حلق إنما على النساء التقصير |
بلوغ المرام |
634
| ليس على النساء حلق وإنما يقصرن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1985 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1985
1985. اردو حاشیہ: عورتوں کے لئے بال کترنا بھی اسی حد تک ہے کہ شرعی حکم پرعمل ہوجائے۔ورنہ مردوں کی مشابہت کی حد تک پہنچنا حرام ہے۔ایسے ہی سر منڈانا بھی ناجائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1985]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 634
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے۔“ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے۔“ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
634فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کو سر کے بال منڈوانے نہیں بلکہ صرف کترانے چاہییں اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے بال کترانا ہی مشروع ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کو سر کے بال منڈوانے نہیں بلکہ صرف کترانے چاہییں اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے بال کترانا ہی مشروع ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 634]
أم عثمان بنت سفيان ← عبد الله بن العباس القرشي