سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. باب طواف الوداع
باب: طواف وداع کا بیان۔
حدیث نمبر: 2005
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنْ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ، قَالَتْ: وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آ گئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2005]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا، پھر حرم میں داخل ہوئی اور اپنا عمرہ پورا کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی ابطح میں میرا انتظار کیا حتیٰ کہ میں فارغ ہو گئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا“ اور کہتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں تشریف لائے، اس کا طواف کیا پھر روانہ ہو گئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف:17443،17440)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)
مشكوة المصابيح (2667)
انظر الحديث الآتي (2006)
مشكوة المصابيح (2667)
انظر الحديث الآتي (2006)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2005
| طاف به ثم خرج |
Sunan Abi Dawud Hadith 2005 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق