🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب في دخول الكعبة
باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ الَأسْلَمِيَّةَ، تَقُولُ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاكَ؟ قَالَ: قَالَ:" إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ"، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ.
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/380) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر مسند الحميدي بتحقيقي (565 وسنده حسن) الأسلمية أراھا صحابية بدليل رواية صفية بنت شيبة وھي صحابية عنھا والله أعلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن طلحة القرشيصحابي
👤←👥الأسلمية
Newالأسلمية ← عثمان بن طلحة القرشي
مجهول
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية
Newصفية بنت شيبة القرشية ← الأسلمية
لها رؤية
👤←👥مسافع بن شيبة العبدري، أبو سليمان
Newمسافع بن شيبة العبدري ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥منصور بن صفية القرشي
Newمنصور بن صفية القرشي ← مسافع بن شيبة العبدري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← منصور بن صفية القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← سعيد بن منصور الخراساني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2030
ليس ينبغي أن يكون في البيت شيء يشغل المصلي
مسندالحميدي
575
إن كنت رأيت قرني الكبش في البيت فنسيت أن آمرك أن تخمرهما فخمرهما فإنه لا ينبغي أن يكون في البيت شيء يشغل المصلي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2030 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2030
فوائد ومسائل:
دو سینگوں سے مراد حضرت ابراہیم ؑ کے لئے اسماعیل ؑ کے فدیہ میں آنے والے مینڈھے کے سینگ ہیں۔
جو کعبہ کے اندر محفوظ تھے۔


عام قاعدہ ہے کہ نمازی کے آگے ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
جو اس کی نظر یا دل کو مشغول کرنے والی ہو۔
جیسے کہ صحیحین میں حدیث ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیاہ منقش چادرکے متعلق ف فرمایا تھا۔
میری یہ خمیصہ چادر ابوجہم کے پاس لے جائو۔
اس نے تو مجھے ابھی نماز میں مشغول کردیا تھا۔
انبجانیۃ۔
(صاف)چادر لے آئو (صحیح بخاری، الصلاة، حدیث 373 و صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 556)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2030]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:575
575- صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں: بنو سلیم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خانۂ کعبہ کے اندر تشریف لے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگی ہوئی دعا کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں نے بیت اللہ میں دنبے کے سینگ دیکھے تھے، تو یہ خیال نہیں رہا کہ میں تمہیں ہدایت دیتا کہ تم انہیں ڈھانپ دو، تو اب تم انہیں ڈھانپ دو، کیونکہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازی کی توجہ کو منتشر کرنے کا باعث ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:575]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسجد میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نمازی کو نماز سے مشغول کر دے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 575]