یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في قوله تعالى { الزاني لا ينكح إلا زانية }
باب: آیت کریمہ «الزاني لا ينكح إلا زانية» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ". وقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2052]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی زانی، جسے زنا کی حد لگی ہو، کسی اپنے جیسی عورت ہی سے نکاح کرتا ہے۔“ ابومعمر نے اپنی سند میں یوں کہا «حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» ”مجھ سے حبیب معلم نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/324) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2052 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2052
فوائد ومسائل:
1۔
مسدد اور ابو معمر کی سند میں فرق یہ ہے کہ معمر کی روایت میں استاد عبد الوارث نے حبیب المعلم سے تحدیث کی تصریح کی ہے اور حبیب نے عمرو بن شعب سے عن سے روایت کی جب کہ مسدد کی روایت اس کے برعکس ہے۔
2۔
اس حدیث میں بھی مذکورہ بالا امر کی توضیح وتایئد ہے۔
کہ جس کی شہرت بری ہوجائے اسے کسی اپنے جیسے ہی سے نکاح کرنا چاہیے۔
1۔
مسدد اور ابو معمر کی سند میں فرق یہ ہے کہ معمر کی روایت میں استاد عبد الوارث نے حبیب المعلم سے تحدیث کی تصریح کی ہے اور حبیب نے عمرو بن شعب سے عن سے روایت کی جب کہ مسدد کی روایت اس کے برعکس ہے۔
2۔
اس حدیث میں بھی مذکورہ بالا امر کی توضیح وتایئد ہے۔
کہ جس کی شہرت بری ہوجائے اسے کسی اپنے جیسے ہی سے نکاح کرنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2052]
Sunan Abi Dawud Hadith 2052 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي