پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب في تزويج من لم يولد
باب: بچے کی پیدائش سے پہلے اس کی شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ أَخْبَرَتْهُ، عَنِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ، قَالَتْ: بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ، فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ.
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ (تپتی زمین سے) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں «قتیر» کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2104]
ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ان کی خالہ نے ایک خاتون سے خبر سنائی جو کمال کی سچی عورت تھی، وہ بیان کرتی تھی کہ ”دورِ جاہلیت میں میرے والد ایک جنگ میں گئے۔ ان لوگوں کو گرمی لگنے لگی تو ایک شخص نے کہا: ”کون ہے جو مجھے اپنے جوتے دے دے، میں اس کا اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کر دوں گا۔“ چنانچہ میرے باپ نے اپنے جوتے اتار کر اس کی طرف پھینک دیے۔ پھر اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی اور بالغ ہو گئی۔“ اور گزشتہ قصہ کی مانند بیان کیا مگر سفیدی ظاہر ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18091) (ضعیف)» (اس کی سند میں ایک مجہول راویہ ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالة إبراهيم بن ميسرة،لم أقف علي من وثقھا :’’ وھي مجهولة ‘‘ كما في التقريب (8787)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
إسناده ضعيف
خالة إبراهيم بن ميسرة،لم أقف علي من وثقھا :’’ وھي مجهولة ‘‘ كما في التقريب (8787)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2104 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2104
فوائد ومسائل:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں اس لئے ان سے کسی مسئلے کے اثبات میں دلیل نہیں لی جا سکتی۔
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں اس لئے ان سے کسی مسئلے کے اثبات میں دلیل نہیں لی جا سکتی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2104]
Sunan Abi Dawud Hadith 2104 in Urdu
اسم مبهم ← ميمونة بنت كردم الثقفية