🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب في تزويج من لم يولد
باب: بچے کی پیدائش سے پہلے اس کی شادی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2103
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، حَدَّثَتْنِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، فَوَقَفَ لَهُ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ وَمَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ وَهُمْ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ فَأَقَرَّ لَهُ وَوَقَفَ عَلَيْهِ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي حَضَرْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: جَيْشَ غِثْرَانَ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ؟ قُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ؟ قَالَ: أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي، فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ حَتَّى عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ وُلِدَ لَهُ جَارِيَةٌ وَبَلَغَتْ ثُمَّ جِئْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَهْلِي جَهِّزْهُنَّ إِلَيَّ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ حَتَّى أُصْدِقَهُ صَدَاقًا جَدِيدًا غَيْرَ الَّذِي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَحَلَفْتُ لَا أُصْدِقُ غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَبِقَرْنِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ الْيَوْمَ؟" قَالَ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ، قَالَ: أَرَى أَنْ تَتْرُكَهَا، قَالَ: فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنِّي، قَالَ:" لَا تَأْثَمُ وَلَا يَأْثَمُ صَاحِبُكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الْقَتِيرُ الشَّيْبُ.
سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے، اور آپ کی باتیں سننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلموں کے درے کی طرح ایک درہ تھا، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ۱؎۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا، پھر کہا کہ میں لشکر عثران (یہ جاہلیت کی جنگ ہے) میں حاضر تھا، (ابن مثنی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے) تو طارق بن مرقع نے کہا: مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے؟ میں نے پوچھا: اس کا عوض کیا ہو گا؟ کہا: میری جو پہلی بیٹی ہو گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا، چنانچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہو گیا، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہو گئی اور جوان ہو گئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا، میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے (یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے)، اس نے کہا: وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا: (گھبراؤ مت) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ۲؎ گنہگار ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت میں وارد لفظ «قتیر» کا مطلب بڑھاپا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2103]
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ چلی، اس حج کے موقع پر جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، میرے والد ان کے قریب ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خاطر رک گئے، میرے والد نے آپ سے مفید مطلب باتیں سنیں۔ آپ کے پاس درہ تھا جیسے کہ معلم لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ میں نے بدویوں کو اور لوگوں کو سنا کہ وہ کہہ رہے تھے «الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ» چلتے ہوئے پاؤں پڑنے کی آواز، طب طب، یا کوڑا مارنے کی آواز۔ میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے، آپ کے قدم مبارک پکڑ لیے، آپ کی رسالت کا اقرار کیا، آپ کے پاس کھڑے رہے اور آپ کے ارشادات سنے۔ میرے والد نے بتایا کہ میں لشکر عشران میں شریک ہوا تھا۔ ابن مثنی نے اس کو غثران کہا: (غین منقوط کے ساتھ) (یہ دور جاہلیت کی ایک جنگ کا واقعہ ہے۔) اس دوران میں طارق بن مرقع نے کہا: کون ہے جو مجھے اپنا نیزہ دے اور اس کا بدلہ پائے؟ میں نے کہا: اس کا بدلہ کیا ہے؟ کہا: میں اس کے ساتھ اپنی اس بیٹی کا نکاح کر دوں گا جو سب سے پہلے پیدا ہو گی۔ چنانچہ میں نے اس کو اپنا نیزہ دے دیا، پھر اس سے غائب رہا حتیٰ کہ مجھے علم ہوا کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اب بالغ ہو چکی ہے۔ پھر میں اس کے پاس گیا، اور اس سے کہا کہ میرے گھر والوں (میری بننے والی بیوی) کو میری طرف تیار کر دو۔ تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہیں کرے گا حتیٰ کہ میں اسے نیا مہر پیش کروں، بخلاف اس کے جو میرے اور اس کے درمیان ہو چکا تھا۔ اور میں نے بھی قسم اٹھا لی کہ جو دے چکا ہوں بس وہی ہے اور نہیں دوں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اور اب وہ لڑکی کس عمر میں ہے؟ کہا کہ اب تو اس کے بالوں میں سفیدی آ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تو اسے چھوڑ دے۔ آپ کی یہ بات مجھے پریشان کر گئی۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا۔ جب آپ نے میری یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: نہ تم گناہ گار بنو اور نہ تمہارا ساتھی گناہ گار بنے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْقَتِيرُ» کا معنی بالوں کی سفیدی (بڑھاپا) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18091)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/366)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (3314) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنے پیروں کو زمین پر تھپتھپانے سے بچو یا تھپتھپانے سے کنایہ درہ مارنے کی طرف ہے یعنی درے مارنے سے بچو۔
۲؎: ساتھی سے مراد طارق بن مرقع ہیں یعنی قسم کھانے کی وجہ سے تم دونوں گنہگار نہیں ہو گے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يأتي طرفه (3314)
سارة : لا تعرف (تق : 8602)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت كردم الثقفيةصحابية
👤←👥سارة بنت مقسم الثقفية
Newسارة بنت مقسم الثقفية ← ميمونة بنت كردم الثقفية
مجهول
👤←👥عبد الله بن يزيد الثقفي
Newعبد الله بن يزيد الثقفي ← سارة بنت مقسم الثقفية
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← عبد الله بن يزيد الثقفي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2103
بقرن أي النساء هي اليوم قال قد رأت القتير قال أرى أن تتركها قال فراعني ذلك ونظرت إلى رسول الله فلما رأى ذلك مني قال لا تأثم ولا يأثم صاحبك
Sunan Abi Dawud Hadith 2103 in Urdu