🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب فِيمَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ
باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ يَحْيَى بنِ فارِسٍ الذُّهْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ؟" قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ:" أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ"، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا، لِأَنَّ الْأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر عورت سے کہا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں «إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال للرجل» کے بجائے «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للرجل» ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2117]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: کیا تم راضی ہو کہ فلاں عورت سے تمہاری شادی کر دوں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے پوچھا: کیا تو راضی ہے کہ فلاں مرد سے تیری شادی کر دوں؟ تو اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی شادی کر دی۔ اور پھر اس مرد نے اس سے صحبت کی مگر حق مہر مقرر نہ کیا اور نہ اسے کچھ دیا۔ اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حدیبیہ میں شریک ہو چکے تھے اور شرکائے حدیبیہ کو خیبر میں حصہ ملا تھا۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میری شادی کر دی تھی مگر میں نے اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ اسے کچھ دیا تھا، اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے مہر میں اپنا خیبر کا حصہ دیتا ہوں۔ چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لیا اور پھر اسے ایک لاکھ میں فروخت کر دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابتدائے حدیث میں اس قدر اضافہ کیا اور ان کی حدیث زیادہ کامل ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین نکاح وہی ہے جو زیادہ آسانی والا ہو۔ اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ حدیث ملحق ہے کیونکہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9962) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ درحقیقت مرض الموت میں اس شخص نے مہر سے زائد کی بابت ایسا کہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير
Newمرثد بن عبد الله اليزني ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥زيد بن أبي أنيسة الجزري، أبو أسامة
Newزيد بن أبي أنيسة الجزري ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة
👤←👥خالد بن أبي يزيد القرشي، أبو عبد الرحيم
Newخالد بن أبي يزيد القرشي ← زيد بن أبي أنيسة الجزري
ثقة
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← خالد بن أبي يزيد القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن يحيى البكائي، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن يحيى البكائي ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمر بن الخطاب القشيري، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب القشيري ← عبد العزيز بن يحيى البكائي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عمر بن الخطاب القشيري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2117
أترضى أن أزوجك فلانة قال نعم وقال للمرأة أترضين أن أزوجك فلانا قالت نعم فزوج أحدهما صاحبه فدخل بها الرجل ولم يفرض لها صداقا ولم يعطها شيئا وكان ممن شهد الحديبية وكان من شهد الحديبية له سهم بخيبر فلما حضرته الوفاة قال إن رسول الله زوجني
بلوغ المرام
890
خير الصداق أيسره
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2117 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2117
فوائد ومسائل:
اصل مسئلہ یہ ہے کہ حق مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں عورت مہر مثل کی مستحق ہوتی ہے بشرطیکہ اس سے صحبت کرلی گئی جب کہ واقعہ میں اسے مہر زیادہ دیا گیا۔
اس لئے امام صاحب اس واقعہ کے خلاف تعبیر فرمایا۔
علاوہ ازیں روایت کا یہ ٹکڑا ابو داود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2117]

Sunan Abi Dawud Hadith 2117 in Urdu