سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فِيمَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ
باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا الصَّدَاقَ، فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔ اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2114]
جناب مسروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی، پھر وفات پا گیا جبکہ ان کا ملاپ نہ ہوا تھا اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا تھا (تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟) انہوں نے فرمایا: ”اس عورت کے لیے پورا مہر ہے، اس پر عدت لازم ہے اور یہ وراثت کی بھی حقدار ہے۔“ (تب) معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسے ہی) سنا تھا آپ نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 44(1145)، سنن النسائی/النکاح 68(3358)، والطلاق 57(3554)، سنن ابن ماجہ/النکاح 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 11461)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/480، 4/280)، سنن الدارمی/النکاح 47 (2292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3207)
وللحديث شاھد عند النسائي (3360 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3207)
وللحديث شاھد عند النسائي (3360 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2115
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَاقَ عُثْمَانُ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ سے مروی ہے عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2115]
عثمان بن ابی شیبہ اپنی سند سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11461) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3207)
وللحديث شاھد عند النسائي (3360 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3207)
وللحديث شاھد عند النسائي (3360 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2116
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا، أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا: إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمْ الْجَرَّاحُ وَ أَبُو سِنَانٍ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی، انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حقدار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ابن مسعود! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں بروع بنت واشق - جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2116]
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی گئی اور پھر وہ لوگ ایک مہینہ تک ان کے پاس چکر لگاتے رہے یا کہا کئی بار ان کے پاس آئے، تو بالآخر انہوں نے کہا: ”میری رائے اس میں یہ ہے کہ یہ عورت مہر کی حقدار ہے جیسے کہ اس طرح کی عورتوں کا حق مہر ہوتا ہے (مہرِ مثل) بغیر کسی کمی بیشی کے، اور یہ میراث کی حقدار ہے اور اس پر عدتِ وفات بھی لازم ہے، اگر میری یہ بات حق اور درست ہے تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے، اللہ اور اس کے رسول دونوں اس سے بری ہیں۔“ چنانچہ قبیلہ اشجع کے لوگ کھڑے ہوئے جن میں جراح اور ابوسنان رضی اللہ عنہما بھی تھے، انہوں نے کہا: ”اے ابن مسعود! ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق اور اس کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی کے بارے میں فرمایا تھا، جیسے کہ آپ نے کیا ہے۔“ راوی نے بیان کیا کہ اس سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بے حد خوشی ہوئی کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430، 431، 447، 448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد صحيح عند ابن حبان (4089/4101) والحاكم (2/ 180 ح 2737) وغيرھما
وللحديث شاھد صحيح عند ابن حبان (4089/4101) والحاكم (2/ 180 ح 2737) وغيرھما
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ يَحْيَى بنِ فارِسٍ الذُّهْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ؟" قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ:" أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ"، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا، لِأَنَّ الْأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر عورت سے کہا: ”کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟“ اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو“ اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں «إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال للرجل» کے بجائے «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للرجل» ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2117]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”کیا تم راضی ہو کہ فلاں عورت سے تمہاری شادی کر دوں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے پوچھا: ”کیا تو راضی ہے کہ فلاں مرد سے تیری شادی کر دوں؟“ تو اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی شادی کر دی۔ اور پھر اس مرد نے اس سے صحبت کی مگر حق مہر مقرر نہ کیا اور نہ اسے کچھ دیا۔ اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حدیبیہ میں شریک ہو چکے تھے اور شرکائے حدیبیہ کو خیبر میں حصہ ملا تھا۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میری شادی کر دی تھی مگر میں نے اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ اسے کچھ دیا تھا، اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے مہر میں اپنا خیبر کا حصہ دیتا ہوں۔“ چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لیا اور پھر اسے ایک لاکھ میں فروخت کر دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابتدائے حدیث میں اس قدر اضافہ کیا اور ان کی حدیث زیادہ کامل ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین نکاح وہی ہے جو زیادہ آسانی والا ہو۔“ اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ حدیث ملحق ہے کیونکہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9962) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ درحقیقت مرض الموت میں اس شخص نے مہر سے زائد کی بابت ایسا کہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح