پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب في القسم بين النساء
باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، قَالَتْ: نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى، وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ، قَالَ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا سورة النساء آية 128".
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» (سورۃ النساء: ۱۲۸) نازل کی: ”اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2135]
عروہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہم ازواج میں) باری مقرر کرنے کے معاملے میں، یعنی ہمارے پاس ٹھہرنے کے معاملے میں ہم میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دیا کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگایا کرتے تھے اور ہر بیوی کے قریب ہوتے، یہ نہیں کہ آپ صحبت کرتے تھے، حتیٰ کہ اس کے پاس جا پہنچتے جس کی باری کا دن ہوتا اور رات اس کے ہاں گزارتے۔“ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بڑی عمر کی ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیں گے تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا دن عائشہ کے لیے (وقف) ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ ”ہم کہا کرتی تھیں کہ اسی سلسلہ میں اور اسی قسم کی صورت احوال کے متعلق ہی اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ [سورة النساء: 128] ”اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو اپنے خاوند کے بگڑنے کا۔“” [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17024)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 99 (5212)، صحیح مسلم/التفسیر 1 (3022)، مسند احمد (6/107) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد | |
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله أحمد بن يونس التميمي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5212
| يقسم لعائشة بيومها ويوم سودة |
صحيح مسلم |
3629
| يقسم لعائشة يومين يومها ويوم سودة |
سنن أبي داود |
2135
| لا يفضل بعضنا على بعض في القسم من مكثه عندنا وكان قل يوم إلا وهو يطوف علينا جميعا فيدنو من كل امرأة من غير مسيس حتى يبلغ إلى التي هو يومها فيبيت عندها لقد قالت سودة بنت زمعة حين أسنت وفرقت أن يفارقها رسول الله يا رسول الله يومي لعائشة |
سنن ابن ماجه |
1972
| يقسم لعائشة بيوم سودة |
بلوغ المرام |
909
| يقسم لعائشة يومها ويوم سودة |
Sunan Abi Dawud Hadith 2135 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق