Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب جواز هبتها نوبتها لضرتها:
باب: اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1463 ترقیم شاملہ: -- 3629
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنَ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ، قَالَت: " فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ، يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ "،
جریر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے کوئی عورت نہیں دیکھی جو مجھے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہو کہ میں اس کے پیکر میں ہوں (اس جیسی بن جاؤں) ایک ایسی خاتون کی نسبت جن میں کچھ گرم مزاجی (بھی) تھی، کہا: جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کے ساتھ اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن دیتے، ایک ان کا دن اور ایک حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا دن۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3629]
حضرت عائشہ رضی اللہتعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے کسی عورت کو نہیں دیکھا، جس جیسا میں ہونا پسند کرتی، سوائے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے۔ وہ ایک ایسی عورت تھی جس میں تیزی (حدت) تھی یعنی وہ گرم مزاج تھیں۔ جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو اس نے اپنی باری جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل تھی، مجھے دے دی۔ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی باری عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دو دن دیتے تھے۔ اس کا اپنا اور سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1463
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5212
يقسم لعائشة بيومها ويوم سودة
صحيح مسلم
3629
يقسم لعائشة يومين يومها ويوم سودة
سنن أبي داود
2135
لا يفضل بعضنا على بعض في القسم من مكثه عندنا وكان قل يوم إلا وهو يطوف علينا جميعا فيدنو من كل امرأة من غير مسيس حتى يبلغ إلى التي هو يومها فيبيت عندها لقد قالت سودة بنت زمعة حين أسنت وفرقت أن يفارقها رسول الله يا رسول الله يومي لعائشة
سنن ابن ماجه
1972
يقسم لعائشة بيوم سودة
بلوغ المرام
909
يقسم لعائشة يومها ويوم سودة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3629 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3629
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مَسْلاَخٌ:
جلد،
چمڑا یعنی میری آرزو اور تمنا یہ تھی۔
میں ان جیسی ہو جاؤں،
کیونکہ وہ انتہائی متین اور سنجیدہ تھیں،
نہایت سخی اور صابرہ وعبادت گزار تھیں۔
فوائد ومسائل:
حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے طلاق دے دیں گے اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی،
اور پھر ان کی خواہش پر کہ میں چاہتی ہوں کہ میں قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں اٹھوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع فرما لیا شاید اس کی یہ حکمت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عملاً اس آیت مبارکہ کی تفسیر بیان کرنا چاہتے تھے کہ اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی زیادتی یا روگردانی کا خطرہ ہو تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں صلح کر لیں (نساء: 9۔
178)
نیز عملاً طلاق دینے اور رجوع کرنے کا امت کے لیے اسوہ چھوڑیں کیونکہ معلم کتاب تھے۔
چونکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کبرسنی کی بنا پر مردوں کی خواہش نہیں رہی تھی۔
اس لیے انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دی کیونکہ وہ محبوبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھیں۔
جس سے معلوم ہوا عورت اپنی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہےکیونکہ یہ اس کا حق ہے لیکن خاوند کی رضا مندی ضروری ہے۔
اگرخاوند کوباری چھوڑ دے تو پھر خاوند جس کو چاہے دے سکتا ہے۔
شوافع اور حنابلہ کا یہی مؤقف ہے اور احناف میں علامہ ابن الہمام اور شامی نے اس مؤقف کو اختیار کیا ہے لیکن اگردونوں کا دن متصل نہ ہو تو باقی ازواج کی رضا کے بغیر اس کومتصل نہیں کیا جا سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3629]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 909
بیویوں میں باری کی تقسیم کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان کا اپنا دن بھی اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا دن بھی تقسیم کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 909»
تخریج:
«أخرجه البخاري، النكاح، باب المرأة تهب يومها من زوجها لضرتها....، حديث:5212، ومسلم، الرضاع، باب جواز هبتها نوبتها لضرتها، حديث:1463.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بیوی اپنی باری دوسری بیوی کو دے سکتی ہے۔
یہ بخشش ناقابل رجوع اور ناقابل واپسی ہوگی بشرطیکہ ایام کی تعیین نہ کی گئی ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 909]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1972
عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1972]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  خاوند کا باری کے مطابق اپنی بیوی کے ہاں رات گزارنا عورت کا حق ہے، اسی لیے وہ اپنے حق سے دست بردار بھی ہو سکتی ہے اور اپنا حق کسی اور کو بھی دے سکتی ہے۔

(2)
باری چھوڑ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کے تمام حقوق ساقط ہو گئے۔
مذکورہ صورت میں مرد کو چاہیے کہ دیگر حقوق کی ادائیگی کا خاص خیال رکھے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر باری کے مطابق بیویوں کے پاس رہنا فرض نہیں تھا۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿تُرْ‌جِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ﴾(الأحزاب: 51)
 ان میں سےجسے توچاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے۔
اور اگر تو ان میں سے کسی کو اپنے پاس بلا ئے جنھیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔
 اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم باری کا اہتمام فرماتے تھے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال حسن خلق ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1972]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5212
5212. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ‬ ؓ ن‬ے اپنی باری سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ے لیے ہبہ کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس خود ان کی باری کے دن اور سیدہ سودہ‬ ؓ ک‬ی باری کے دن رہتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5212]
حدیث حاشیہ:
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بڑھاپے میں ایسا کر دیا تھا تا کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم طلاق نہ دے دیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5212]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5212
5212. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ‬ ؓ ن‬ے اپنی باری سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ے لیے ہبہ کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس خود ان کی باری کے دن اور سیدہ سودہ‬ ؓ ک‬ی باری کے دن رہتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5212]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں خطرہ محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے سے جدا کر دیں گے تو انھوں نے کہا:
اللہ کے رسول! میں اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا۔
(سنن أبی داود، النکاح، حدیث: 2135) (2)
جب کوئی اپنی باری کا دن سوکن کو ہبہ کر دے تو اسے وہی دن ملے گا جو اس کی باری کا ہے۔
اگر اس کے متصل ہے تو مسلسل دو دن اس کے ہوں گے، بصورت دیگر ان دنوں میں فاصلہ ہوگا۔
اگر باقی بیویاں اگلے دنوں پر راضی ہوں تو اسے اکٹھے دو دن بھی مل سکتے ہیں۔
(فتح الباري: 388/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5212]