علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب في حق الزوج على المرأة
باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: رَسُولُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ، قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟" قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا،لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ، لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَقِّ".
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2140]
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا، تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو میں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کو سجدہ کیا جائے۔“ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا کہ میں حیرہ گیا، تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو اے اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتا کہ اگر تو میری قبر پر گزرتا تو کیا اسے سجدہ کرتا؟“ میں نے کہا کہ ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایسا نہ کرو۔ اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا کہتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیوی پر شوہر کا بہت حق رکھا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11090)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 159 (1504) (صحیح)» (قبر پر سجدہ کرنے والا جملہ صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة القبر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3266)
شريك القاضي صرح بالسماع عند البيھقي (7/ 291) و للحديث شواھد عند الترمذي (1159 وسنده حسن) وغيره
مشكوة المصابيح (3266)
شريك القاضي صرح بالسماع عند البيھقي (7/ 291) و للحديث شواھد عند الترمذي (1159 وسنده حسن) وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2140
| لأمرت النساء أن يسجدن لأزواجهن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2140 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2140
فوائد ومسائل:
1: تعظیمی سجدہ مشرکین کا شعار ہے۔
2: قبر پر سجدہ کرنا یا کسی زندہ مردہ کو سجدہ کرنا، فطرت سلیمہ کے بھی خلاف ہے کجا یہ کہ کوئی کلمہ گو اس کا تصورکرے۔
3: بیویوں پر واجب ہے کہ اہنے خاوندوں کی حد درجہ عزت وتوقیر اور خدمت کو اپنا شعار بنائیں مگر ظاہر ہے کہ شرعی حدود وقیود کی پا بندی لازمی ہے۔
4: سجدہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کے ساتھ خاص ہے، دوسرے کسی شخص کے لئے سجدہ قطعا روا اور جائز نہیں ہے۔
5: مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے، قرآن مقدس میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔
6: یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت کی واضح دلیل ہے۔
1: تعظیمی سجدہ مشرکین کا شعار ہے۔
2: قبر پر سجدہ کرنا یا کسی زندہ مردہ کو سجدہ کرنا، فطرت سلیمہ کے بھی خلاف ہے کجا یہ کہ کوئی کلمہ گو اس کا تصورکرے۔
3: بیویوں پر واجب ہے کہ اہنے خاوندوں کی حد درجہ عزت وتوقیر اور خدمت کو اپنا شعار بنائیں مگر ظاہر ہے کہ شرعی حدود وقیود کی پا بندی لازمی ہے۔
4: سجدہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کے ساتھ خاص ہے، دوسرے کسی شخص کے لئے سجدہ قطعا روا اور جائز نہیں ہے۔
5: مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے، قرآن مقدس میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔
6: یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت کی واضح دلیل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2140]
Sunan Abi Dawud Hadith 2140 in Urdu
عامر الشعبي ← قيس بن سعد الأنصاري