سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في الظهار
باب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةِ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ".
سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں صدقہ کر دو“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2213)، (تحفة الأشراف: 18790) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث السابق (2213)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث السابق (2213)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2217
| تصدق بهذا قال يا رسول الله على أفقر مني ومن أهلي فقال رسول الله كله أنت وأهلك |
سنن أبي داود |
2221
| اعتزلها حتى تكفر عنك |
سنن النسائى الصغرى |
3488
| اعتزلها حتى تفعل ما أمرك الله |
سنن النسائى الصغرى |
3489
| اعتزل حتى تقضي ما عليك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2217 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2217
فوائد ومسائل:
ان کا یہ مطلب تھا کہ غربت کے لحاظ سے ہم سے زیادہ اس صدقے کا مستحق اور کوئی نہیں۔
ان کا یہ مطلب تھا کہ غربت کے لحاظ سے ہم سے زیادہ اس صدقے کا مستحق اور کوئی نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2217]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3488
ظہار کا بیان۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا (یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا (کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے“، اس نے کہا: اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی (راوی کو شب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3488]
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا (یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا (کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے“، اس نے کہا: اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی (راوی کو شب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3488]
اردو حاشہ:
(1) اگر کوئی شخص ظہار کے بعد کفارہ ادا کیے بغیر جماع کا مرتکب ہو تو یہ گناہ ہے لیکن اسے کفارہ ایک ہی دینا ہوگا کیونکہ ظہار تو ایک ہی دفعہ کیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے اس پر دگنا کفارہ لازم کیا ہے مگر یہ درست نہیں۔
(2) ”اللہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔“ سابقہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے لیے دعا کی تھی‘ حالانکہ اس نے غلطی کا ارتکاب کیا تھا‘ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین معلم ومربی تھے کہ آپ نے حسن خلق سے غلط کاروں کی اصلاح فرمائی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
(1) اگر کوئی شخص ظہار کے بعد کفارہ ادا کیے بغیر جماع کا مرتکب ہو تو یہ گناہ ہے لیکن اسے کفارہ ایک ہی دینا ہوگا کیونکہ ظہار تو ایک ہی دفعہ کیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے اس پر دگنا کفارہ لازم کیا ہے مگر یہ درست نہیں۔
(2) ”اللہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔“ سابقہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے لیے دعا کی تھی‘ حالانکہ اس نے غلطی کا ارتکاب کیا تھا‘ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین معلم ومربی تھے کہ آپ نے حسن خلق سے غلط کاروں کی اصلاح فرمائی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3488]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3489
ظہار کا بیان۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں (تو بے قابو ہو گیا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے (یعنی کفارہ دے دو)۔“ اسحاق بن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3489]
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں (تو بے قابو ہو گیا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے (یعنی کفارہ دے دو)۔“ اسحاق بن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3489]
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ کے اس حدیث میں دو استاد ہیں: اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن عبدالاعلیٰ۔ امام صاحب نے دونوں سے روایت بیان کی ہے اور جن الفاظ میں دونوں کا اختلاف تھا ان کی نشاندہی بھی کردی۔ اس لحاظ سے امام صاحب کا نیچے یہ کہنا کہ ”یہ الفاظ محمد عبدالاعلیٰ کے ہیں“ محل نظر ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ دونوں استاتذہ کی حدیث کا سیاق باہم مختلف اور متضاد ہے صرف معنی ومفہوم ایک ہے۔ اس طرح امام صاحب کی یہ دونوں وضاحتیں باہم متضاد معلوم ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم۔ افادہ الاتیوبی رحمہ اللہ دیکھیے: (ذخیرہ العقبیٰ شرح سنن النسائی:29/24) (2) یہ دونوں روایات حضرت عکرمہ سے مروی ہیں جو تابعی ہیں۔ گویا وہ موقع پر موجود نہیں تھے۔ ایسی روایت کو مرسل کہا جاتا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس راویی کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ اور مسند (متصل) روایت (3487) کو صحیح تسلیم نہیں کیا‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت متصلاً بھی ثابت ہے اور تعدد طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ارواء میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور یہی نتیجہ نکالا ہے۔ دیکھیے: (الاروا: 7/178۔ 180) وذخیرۃ العقبیٰ) شرح سنن النسائی: 29/61، 62و24، 65)
(1) امام نسائی رحمہ اللہ کے اس حدیث میں دو استاد ہیں: اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن عبدالاعلیٰ۔ امام صاحب نے دونوں سے روایت بیان کی ہے اور جن الفاظ میں دونوں کا اختلاف تھا ان کی نشاندہی بھی کردی۔ اس لحاظ سے امام صاحب کا نیچے یہ کہنا کہ ”یہ الفاظ محمد عبدالاعلیٰ کے ہیں“ محل نظر ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ دونوں استاتذہ کی حدیث کا سیاق باہم مختلف اور متضاد ہے صرف معنی ومفہوم ایک ہے۔ اس طرح امام صاحب کی یہ دونوں وضاحتیں باہم متضاد معلوم ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم۔ افادہ الاتیوبی رحمہ اللہ دیکھیے: (ذخیرہ العقبیٰ شرح سنن النسائی:29/24) (2) یہ دونوں روایات حضرت عکرمہ سے مروی ہیں جو تابعی ہیں۔ گویا وہ موقع پر موجود نہیں تھے۔ ایسی روایت کو مرسل کہا جاتا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس راویی کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ اور مسند (متصل) روایت (3487) کو صحیح تسلیم نہیں کیا‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت متصلاً بھی ثابت ہے اور تعدد طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ارواء میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور یہی نتیجہ نکالا ہے۔ دیکھیے: (الاروا: 7/178۔ 180) وذخیرۃ العقبیٰ) شرح سنن النسائی: 29/61، 62و24، 65)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3489]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2221
ظہار کا بیان۔
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
فوائد ومسائل:
ظہار میں کفارہ ادا کرنے سے پہلے قربت جائز نہیں ہے۔
ظہار میں کفارہ ادا کرنے سے پہلے قربت جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2221]
بكير بن عبد الله القرشي ← سليمان بن يسار الهلالي