پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب في الخلع
باب: خلع کا بیان۔
حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذِهِ؟" فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟" قَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، وَذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ"، وَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ:" خُذْ مِنْهَا"، فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ هِيَ فِي أَهْلِهَا.
حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ بولیں: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں“، حبیبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے (مہر وغیرہ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا: ”اس (مال) میں سے لے لو“، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2227]
عمرہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ، حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بیان کرتی ہیں کہ یہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کو اندھیرے میں اپنے دروازے کے پاس کھڑے پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ اس نے کہا: ”میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ کہنے لگی: ”میں نہیں اور ثابت بن قیس نہیں!“ یعنی اپنے شوہر کے متعلق کہا۔ (مطلب یہ تھا کہ ہم دونوں کا اکٹھا رہنا ممکن نہیں) پھر جب سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”حبیبہ بنت سہل آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا اس نے مجھ سے بیان کیا۔“ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے مجھے دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس سے وصول کر لو۔“ چنانچہ انہوں نے مال لے لیا اور پھر وہ اپنے گھر والوں کے ہاں بیٹھ رہی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 34 (3492)، (تحفة الأشراف: 15792)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 11(31)، مسند احمد (6/434)، سنن الدارمی/الطلاق 7 (2317) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی اسلام میں پہلا خلع تھا، خلع سے نکاح منسوخ ہو جاتا ہے، خلع کی عدت ایک حیض ہے، بعض علماء کے نزدیک خلع سے ایک طلاق پڑ جاتی ہے، اس لئے ان لوگوں کے نزدیک اس کی عدت طلاق کی عدت کی طرح ہے، یعنی تین حیض ہے، پہلا قول راجح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (3492 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (3492 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3492
| خذ منها فأخذ منها وجلست في أهلها |
سنن أبي داود |
2227
| خذ منها فأخذ منها وجلست هي في أهلها |
Sunan Abi Dawud Hadith 2227 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← حبيبة بنت سهل الأنصارية