سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب الولد للفراش
باب: بچہ صاحب فراش کا ہو گا (یعنی جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی بچہ اسی کو ملے گا)۔
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا ابْنِي عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فلاں میرا بیٹا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں اس طرح کا مطالبہ صحیح نہیں، زمانہ جاہلیت کی بات ختم ہوئی، بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2274]
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں بچہ میرا بیٹا ہے، میں نے جاہلیت میں اس کی ماں سے بدکاری کی تھی،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں اس قسم کا کوئی دعویٰ نہیں چلتا، جاہلیت کے امور سب ختم ہیں، بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں (یا محرومی ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8687)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 207) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3320)
مشكوة المصابيح (3320)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2274
| لا دعوة في الإسلام ذهب أمر الجاهلية الولد للفراش للعاهر الحجر |
Sunan Abi Dawud Hadith 2274 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي