پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب من أنكر ذلك على فاطمة
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ لَهُ:" اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا"، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ:" إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي"، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ:" أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟" فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ"، فَقَالَ مَرْوَانُ:" إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ، فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ".
یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں (عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2295]
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے (اپنی بیوی عمرہ) بنت عبدالرحمٰن بن حکم کو طلاق دے دی، «طَلَاقُ الْبَتَّةِ» ”طلاقِ بتہ“ (تین طلاقیں)، تو عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کو (اپنے گھر) منتقل کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کو پیغام بھیجا اور وہ ان دنوں مدینہ کا حاکم تھا، کہ ”اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے (خاوند کے) گھر لوٹا دو۔“ مروان نے کہا (بالفاظِ سلیمان): ”عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گیا ہے۔“ اور (بالفاظِ قاسم) مروان نے کہا: ”کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا احوال نہیں پہنچا؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اگر آپ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہ ہو گا۔“ (اس کو ایک خاص وجہ سے اجازت دی گئی تھی) مروان نے کہا: ”اگر آپ ایک شر کو انتقال کی وجہ جواز سمجھتی ہیں تو ان زوجین کے درمیان موجود شر بھی اس کی وجہ جواز ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق (5321)، صحیح مسلم/الطلاق 6 (1481)، (تحفة الأشراف: 16137، 17560، 18022، 18035)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 22 (63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5321، 5322)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2295 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق