🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب إذا أخطأ القوم الهلال
باب: جب لوگوں سے چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، قَالَ:" وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ، وَكُلُّ جَمْعٍ مَوْقِفٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی، اس میں ہے: تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ۱؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14605)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 11 (697)، سنن ابن ماجہ/الصیام 9 (1660) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسی جملے کی باب سے مطابقت ہے، مطلب یہ ہے کہ: جب سارے کے سارے لوگ تلاش و جستجو اور اجتہاد کے بعد کسی دن چاند کا فیصلہ کر لیں اور اسی حساب سے روزہ اور افطار اور قربانی کر لیں اور بعد میں چاند دوسرے دن کا ثابت ہوجائے تو یہ اجتماعی غلطی معاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن عبيد الغبري
Newمحمد بن عبيد الغبري ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2672
عن صيام يومين يوم الأضحى يوم الفطر
سنن أبي داود
2324
فطركم يوم تفطرون أضحاكم يوم تضحون كل عرفة موقف كل منى منحر كل فجاج مكة منحر كل جمع موقف
سنن ابن ماجه
1719
أيام منى أيام أكل وشرب
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
263
نهى عن صيام يومين: يوم الفطر ويوم الاضحى
المعجم الصغير للطبراني
367
صوموا لرؤيته ، وأفطروا لرؤيته ، فإن غم عليكم ، فأكملوا العدة ثلاثين
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2324 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2324
فوائد ومسائل:
اجتہادی امور میں خطا معاف ہے۔
عید یا حج کے موقع پر چاند نظر نہ آیا ہو اور لوگ مہینے کے تیس دن پورے کر لیں اور بعد میں پتہ چلے کہ چاند تو انتیس کا تھا تو ان پر روزے اور وقوف عرفات و قربانی کا کوئی عیب نہیں۔
ایسے ہی اگر کئی فساق اکٹھے ہو کر انتیس ہی کو چاند ہونے کا مشہود کر دیں اور مسلمان ان کے بھرے میں آ کر افطار کر لیں یا وقوف عرفات و قربانی ہو جائے تو اس میں عامة المسلمین پر کوئی عیب نہیں۔
ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بعض بے دینوں نے توبہ کرنے کے بعد اظہار کیا کہ ہم چند لوگ مل کر چاند ہونے کا دعویٰ کر دیتے تھے، شہادتیں اور قسمیں بھی کھا لیتے تھے اور عید کروا دیتے تھے۔
العیاذباللہ۔
ایسی صورت میں ازالہ نا ممکن ہو تو خطا معاف ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2324]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 263
عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنا حرام ہے
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام يومين: يوم الفطر ويوم الاضحى . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 263]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1138، من حديث ما لك به]

تفقه:
➊عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن جان بوجھ کر (اگر یقینی طور پر چاند دیکھا گیا ہو تو) روزہ رکھنا حرام ہے۔
➋ اگر کوئی خاص عید کے دن روزہ رکھنے کی نذر مان لے تو یہ نذر باطل ہے۔
➌ بعض علماء اس حدیث سے استنباط کرتے ہیں کہ ہمیشہ ہر روز روزہ رکھنا جائز ہے بشرطیکہ ایام ممنوعہ میں روزہ نہ رکھا جائے۔ دیکھئے: [الموطأ روايتہ یحیی 300/1]
➍ بہتر یہی ہے کہ ہر روز، روزہ رکھنے سے اجتناب کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ داود علیہ السلام والا روزہ رکھا جائے۔ یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کیا جائے، یہی افضل ترین ہے۔
➎ جن روایات میں ہمیشہ روزہ رکھنے سے ممانعت آئی ہے وہ ایام ممنوعہ کو چھوڑ کر باقی دنوں میں کراہت تنزیہی پر محمول ہیں۔
➏ نیز دیکھئے: [الموطأ ح73، البخاري 1990، ومسلم 1137]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 98]