🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال
باب: شوال کے چاند کی رویت کے لیے دو آدمیوں کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2339
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ لَأَهَلَّا الْهِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا". زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں (چاند کی رویت پر) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2339]
ربعی بن حراش، اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی گواہی دی (قسمیں اٹھائیں) کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر لیں۔ اور خلف بن ہشام کی روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگلے دن صبح کو (عید پڑھنے کے لیے) عید گاہ جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15574)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/314، 5/362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (5/314 وسنده صحيح) وقال الدارقطني (2/169 ح 2182): ’’ھذا إسناد حسن ثابت‘‘

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← ربعي بن حراش العبسي
ثقة ثبت
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة ثبت
👤←👥خلف بن هشام البزار، أبو محمد
Newخلف بن هشام البزار ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← خلف بن هشام البزار
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1558
أمرهم أن يفطروا بعد ما ارتفع النهار وأن يخرجوا إلى العيد من الغد
جامع الترمذي
693
رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه فقلت ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه قال لا هكذا أمرنا رسول الله
سنن أبي داود
2339
اختلف الناس في آخر يوم من رمضان فقدم أعرابيان فشهدا عند النبي بالله لأهلا الهلال أمس عشية فأمر رسول الله الناس أن يفطروا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2339 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2339
فوائد ومسائل:
رمضان المبارک کا چاند ہو جانے کا یقین یا تو شعبان کے تیس دن پورے ہو جانے پر ہے یا لوگوں کی گواہی پر کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے، خواہ کوئی ایک عادل مسلمان ہی ہے، جیسے کہ اگلے باب کی احادیث میں آ رہا ہے۔
اسی طرح انتہائے رمضان کے موقع پر بھی۔
تاہم عام فقہاء عادل مسلمانوں کی رؤیت کو ضروری سمجھتے ہیں جبکہ ابوثور، ابوبکر بن منذر، اہل ظاہر اور امام حسن کی امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے ایک روایت میں ایک مسلمان کی رؤیت کو بھی حجت سمجھا گیا ہے۔
علامہ شوکانی رحمة اللہ علیہ کی ترجیح بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ روزے چھوڑنے کے موقع پر دو آدمیوں کی گواہی کسی معیاری دلیل سے ثابت نہیں۔
مالی معاملات ہی ایسے ہیں جہاں دو گواہ لازم ہوتے ہیں۔
مگر روزوں کے متعلق صریح حکم ہے کہ چاند دیکھ کر رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔
اور عبادت میں خبر واحد معتبر ہوتی ہے۔
(فقه السنة للسيد سابق‘ بم يثبت الشهر‘ ونيل الأوطار‘ باب ما يثبت به الصوم والفطر من الشهور) نیز عید کا چاند ہونے کی خبر اگر دیر سے ملے اور عید کے لیے جمع ہونا ممکن نہ ہو تو اگلے دن عید کی نماز پڑھ لی جائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2339]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1558
عیدالفطر کی نماز کے لیے (کسی سبب سے) دوسرے دن نکلنے کا بیان۔
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور آپ سے اس کا ذکر کیا) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1558]
1558۔ اردو حاشیہ:
روزہ کھول دینے کا حکم دیا گویا ضروری نہیں کہ سب لوگ یا ہر شہر اور بستی والے چاند دیکھیں بلکہ کچھ لوگ چاند دیکھ لیں تو وہ دوسرے لوگوں اور شہروں کے لیے بھی کافی ہو گا۔ ظاہر یہی ہے کہ چاند دیکھنے والے مذکورہ لوگ مدینہ سے باہر کے ہوں گے ورنہ وہ رات کے وقت ہی آپ کو اطلاع کر دیتے۔ اگر مدینے سے باہر والے لوگوں کا چاند دیکھنا مدینہ منورہ والوں کے لیے کافی ہے تو دیگر شہروں کے لیے بھی یہی حکم ہو گا، الایہ کہ مطلع میں اتنا فرق ہو کہ چاند نظر آنے میں ایک دن یا زائد کا فرق ممکن ہو۔ اس صورت میں ان کا حساب الگ ہو گا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ چاند کی اطلاع جب بھی ملے، اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ روزہ رکھنے کی صورت میں اسے کھولنا واجب ہو گا۔ اگر اسی دن عید پڑھنا ممکن ہو تو اسی دن زوال سے قبل عید پڑھی جائے گی اور اگر زوال سے پہلے عید پڑھنا ممکن نہ ہو تو اگلے دن عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ چونکہ چاند کی رؤیت میں عموماً ایک ہی دن کا فرق ممکن ہے، لہٰذا ایک دن سے زائد نماز عید مؤخر نہ کی جائے۔ احادیث میں بھی ایک ہی دن کا ذکر ہے۔ اس مسئلے میں دونوں عیدیں برابر ہیں۔
➋ اگر بارش یا اندھیری وغیرہ کی وجہ سے اصل دن عید پڑھنا ممکن نہ ہو تو بھی یہی حکم ہے۔
نماز عید کے لیے نکلنے کا اصل یہی ہے کہ نماز عید آبادی سے باہر کھلے میدان میں پڑھی جائے کہ اس میں شان و شوکت کا زیادہ اظہار ہے۔ اور یہ بھی عید کا ایک مقصدہے۔ بعض حضرات نے اس حکم کی علت یہ قرار دی ہے کہ چونکہ مسجد میں پوری آبادی کے لوگ سما نہیں سکتے، اس لیے جگہ کی تنگی کے پیش نظر باہر نکلنے کا حکم دیا۔ گویا اگر کہیں مسجد اور اس کے ساتھ اتنی جگہ خالی ہو کہ تمام لوگ اس میں آرام سے نماز پڑھ سکیں تو نماز عید مسجد میں بھی پڑھی جا سکتی ہے جیسا کہ حرمین (بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی شریف) میں ہوتا ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ مذکورہ حکم کی علت یہی ہو، لہٰذا سنت نبوی پر عمل ہی اولیٰ ہے۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1558]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 693
ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا۔
کریب بیان کرتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور (اسی درمیان) رمضان کا چاند نکل آیا، اور میں شام ہی میں تھا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ۱؎، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباس رضی الله عنہما نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے بھی جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ تو میں نے کہا: لوگوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 693]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے اور توڑنے کے سلسلہ میں چاند کی رؤیت ضروری ہے،
محض فلکی حساب کافی نہیں،
رہا یہ مسئلہ کہ ایک علاقے کی رؤیت دوسرے علاقے کے لیے معتبر ہو گی یا نہیں؟ تو اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے جو گروہ معتبر مانتا ہے وہ کہتاہے کہ ((صُوْمُوْا)) اور ((اَفْطِرُوْا)) کے مخاطب ساری دنیا کے مسلمان ہیں اس لیے کسی ایک علاقے کی رویت دنیا کے سارے علاقوں کے لیے رویت ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے کافی نہیں ان کا کہنا ہے کہ اس حکم کے مخاطب صرف وہ مسلمان ہیں جنھوں نے چاند دیکھا ہو،
جن علاقوں میں مسلمانوں نے چاند دیکھا ہی نہیں وہ اس کے مخاطب ہی نہیں،
اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ہر علاقے کے لیے اپنی الگ رویت ہے جس کے مطابق وہ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے فیصلے کریں گے،
اس سلسلہ میں ایک تیسرا قول بھی ہے کہ جو علاقے مطلع کے اعتبار سے قریب قریب ہیں یعنی ان کے طلوع و غروب میں زیادہ فرق نہیں ہے ان علاقوں میں ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقوں کے لیے کافی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 693]

Sunan Abi Dawud Hadith 2339 in Urdu