🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2353]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15024)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 24 (1698)، حم(2/450) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1995)
أخرجه ابن ماجه (1698 وسنده حسن)

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4379

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة ثبت
👤←👥وهبان بن بقية الواسطي، أبو محمد
Newوهبان بن بقية الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2353
لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود و النصارى يؤخرون
سنن ابن ماجه
1698
لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر عجلوا الفطر فإن اليهود يؤخرون
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2353 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 2353
روزہ افطار کرنے میں مسوفین میں سے نہ ہونا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لا يزال الدين ظاهرًا ما عجّل الناس الفطر لأن اليهود والنصاري يؤخرون»
دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کریں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی تاخیر کرتے ہیں۔
[سنن ابي داود: 2353 وسنده حسن، وصححه ابن خزيمه: 2060، و ابن حبان، الموارد: 889، والحاكم عليٰ شرط مسلم 1/ 431 ووافقه الذهبي]
جب سورج غروب ہوا تو (سیدنا) عمر (رضی اللہ عنہ) نے اپنے پاس والے شخص کو برتن دے کر کہا: پیو، پھر فرمایا: شاید تم «مُسَوِّفين» (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے ہو جو کہتے ہیں: تھوڑی دیر بعد، تھوڑی دیر بعد۔؟! [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 13 ح 8958، وسنده صحيح، دوسرانسخه 4/ 23 ح 9043]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے امراء کی طرف لکھ کر حکم بھیجتے تھے کہ روزہ افطار کرنے کے بارے میں مسوفین میں سے نہ ہونا اور نماز کے لئے ستاروں کے اکٹھ کا انتظار نہ کرنا۔ [ابن ابي شيبه 3/ 12 ح 8946، وسنده حسن، دوسرانسخه 4/ 21 ح 9031]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: روزہ جلدی افطار کرناسنت میں سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 13 ح 7954، وسنده صحيح]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں اپنی اختراع شدہ ”احتیاط“ کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
الاتحاف الباسم شرح موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم حدیث نمبر 410
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 410]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2353
فوائد ومسائل:
(1) اس فرمان میں افطار کے لیے کھانے پینے کی حرص کا بیان نہیں بلکہ یہ ترغیب و تشویق ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل میں سبقت کی جائے۔
اور یہی بات دین کے غالب ہونے کی علامت ہے کہ مخالفین اسلام اور دین بیزار لوگوں کے مقابلے میں دین کے چھوٹے بڑے تمام احکام پر مِن و عَن عمل کر کے اپنے آپ کو نمایاں رکھا جائے۔

(2) افطار اور نماز مغرب میں تاخیر کرنا اور خوامخواہ وہم میں مبتلا ہونا کہ سورج شاید ابھی غروب نہیں ہوا، ابھی غروب نہیں ہوا، مکروہ ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2353]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1698
افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1698]
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہودی اپنے شرعی مسائل میں افراط و تفریط کا شکار ہیں مسلمانوں کو چا ہیے کہ افراط و تفریط سے بچتے ہو ئے سنت نبوی پر عمل پیرا رہیں اس حدیث سے ان لو گوں کو سبق حاصل کر نا چا ہیے جو احتیاط کے نام پر تاخیر کرتے ہیں کہ وہ کس کی پیروی کر رہے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1698]

Sunan Abi Dawud Hadith 2353 in Urdu