🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب فِي الرَّجُلِ يَبُولُ بِاللَّيْلِ فِي الإِنَاءِ ثُمَّ يَضَعُهُ عِنْدَهُ
باب: رات کو برتن میں پیشاب کر کے اسے اپنے پاس رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ (رہتا) تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پیشاب کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 24]
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی کے نیچے رکھا ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس میں پیشاب کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 24]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 28 (32)، (تحفة الأشراف: 15782) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (362)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي (32) وحكيمة وثقھا الجمهور


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أميمة بنت رقيقة التيميةصحابي
👤←👥حكيمة بنت أميمة
Newحكيمة بنت أميمة ← أميمة بنت رقيقة التيمية
مجهول الحال
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← حكيمة بنت أميمة
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر
Newمحمد بن عيسى البغدادي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
24
قدح من عيدان تحت سريره يبول فيه بالليل
سنن النسائى الصغرى
32
قدح من عيدان يبول فيه ويضعه تحت السرير
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 24 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 24
فوائد و مسائل:
 بیماری، سردی یا کسی دوسرے عذر کی بنا پر انسان کسی برتن میں پیشاب کر لے اور بعد میں اسے باہر گرا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 24]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
تحقیق غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، المستدرك للحاكم حدیث : 7087
سوال:
کیا کسی صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب پیا؟
جواب:
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مٹی کے برتن کے پاس اُٹھ کر تشریف لائے اور اس میں پیشاب کیا۔ اسی رات میں اُٹھی اور مجھے پیاس لگی ہوئی تھی۔ میں نے جو اس میں تھا، پی لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”خبردار! بے شک آپ آج کے بعد کبھی اپنے پیٹ میں بیماری نہ پائیں گی۔“
[المستدرك للحاكم: 63/4، حلية الأولياء لأبي نعيم: 67/2، دلائل النبوة لأبي نعيم: 380/2، المعجم الكبير للطبراني: 89/25، التلخيص الحبير لابن حجر: 31/1، البداية والنهاية لابن كثير: 326/5، الإصابة لابن حجر: 433/4]
اس کی سند سخت ”ضعیف“ ہے۔ عبدالملک بن حسین ابو مالک نخعی ”متروک“ ہے۔
[تقريب التهذيب لابن حجر: 8337]
تنبیہ:
ابو یعلی کی سند میں ابو مالک نخعی کا واسطہ گر گیا ہے۔ اس پر قرینہ یہ ہے کہ ابو مالک نخعی کے اساتذہ میں یعلی بن عطاء اور یعلی بن عطاء کے شاگردوں میں ابو مالک نخعی موجود ہے، جبکہ یعلی بن عطاء کے شاگردوں میں حسین بن حرب موجود نہیں۔ اس سند کے دو راوی مسلم بن قتیبہ اور الحسین بن حرب کا تعین اور توثیق درکار ہے۔
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”ابو یعلی، حاکم، دار قطنی اور ابو نعیم نے اسے ام ایمن رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔“
[الخصائص الكبرى للبيهقي: 252/2]
حافظ سیوطی یہ باور کراتے ہیں کہ یہ سند ایک ہی ہے، جس کا دارو مدار ابو مالک نخعی پر ہے جو کہ متروک ہے، نیز الولید بن عبد الرحمن کا ام ایمن رضی اللہ عنہا سے سماع بھی درکار ہے۔ ابو یعلی کے علاوہ باقی سب میں ابو مالک نخعی اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے۔
[التلخيص الحبير لابن حجر: 171/1]
❀ ایک روایت میں ہے:
”اس کے بعد خاتون مرض الموت تک کبھی بیمار نہیں ہوئیں۔“
[التلخيص الحبير لابن حجر: 32/1]
اس کی سند ”منقطع“ اور ”مدلس“ ہے۔ اس میں امام عبد الرزاق اور امام ابن جریج دونوں ”مدلس“ ہیں اور مخبر نامعلوم و مجہول ہے۔
❀ امیمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے تھے، پھر اسے چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا۔ ایک ”برکہ“ نامی عورت آئی۔ وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حبشہ سے آئی تھی۔ اس نے وہ پیالہ نوش کر لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: میں نے اسے پی لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے آگ سے بچاؤ حاصل کر لیا ہے، یا فرمایا: ڈھال بنالی ہے یا اس طرح کی کوئی بات کہی۔“
[الآحاد والمثاني لابن أبى عاصم: 3342، وسنده حسن، الاستيعاب فى معرفة الأصحاب لابن عبد البر: 251/4، وسنده حسن، المعجم الكبير للطبراني: 189/24، السنن الكبرى للبيهقي: 67/7، وسنده صحيح]
غالباً یہ کام اس لونڈی سے غلطی سے سرزد ہو گیا تھا اور غلطی سے ایک ناپسندیدہ کام کرنے پر جو کراہت اور تکلیف بعد میں اسے ہوئی اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جہنم سے آزادی مل گئی کیونکہ مؤمن کی کوئی مشقت و تکلیف نیکی سے خالی نہیں ہوتی۔ «واللہ اعلم بالصواب!»
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 32
برتن میں پیشاب کرنے کا بیان۔
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 32]
32۔ اردو حاشیہ: گھر میں پیشاب کے لیے معین جگہ نہ ہو یا وہاں پہنچنا ممکن نہ ہو تو چارپائی کے قریب کسی برتن میں پیشاب کرلینا اور صبح ہوتے ہی اسے باہر انڈیل دینا، گھر کو پلیدی سے بچانے کا ایک اچھا طریقہ ہے، ورنہ جگہ جگہ پیشاب ہو گا اور سارا گھر پلید ہو گا، البتہ یہ ضروری ہے کہ پیشاب کو برتن میں زیادہ دیر تک نہ رہنے دیا جائے کیونکہ بدبو کے علاوہ یہ خدشہ بھی ہے کہ کوئی پالتو جانور اسے پانی سمجھ کر پی لے یا برتن سے ٹکرا جائے اور پیشاب گھر میں گر جائے، لہٰذا صبح ہوتے ہی اسے گھر سے باہر یا مخصوص جگہ میں گرا دیا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 32]

Sunan Abi Dawud Hadith 24 in Urdu