🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : البول في الإناء
باب: برتن میں پیشاب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 32
أَخْبَرَنَا أَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ السَّرِيرِ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 32]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 13 (24)، (تحفة الأشراف: 15782) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أميمة بنت رقيقة التيميةصحابي
👤←👥حكيمة بنت أميمة
Newحكيمة بنت أميمة ← أميمة بنت رقيقة التيمية
مجهول الحال
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← حكيمة بنت أميمة
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥أيوب بن محمد الوزان، أبو محمد، أبو سليمان
Newأيوب بن محمد الوزان ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
24
قدح من عيدان تحت سريره يبول فيه بالليل
سنن النسائى الصغرى
32
قدح من عيدان يبول فيه ويضعه تحت السرير
سنن نسائی کی حدیث نمبر 32 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 32
32۔ اردو حاشیہ: گھر میں پیشاب کے لیے معین جگہ نہ ہو یا وہاں پہنچنا ممکن نہ ہو تو چارپائی کے قریب کسی برتن میں پیشاب کرلینا اور صبح ہوتے ہی اسے باہر انڈیل دینا، گھر کو پلیدی سے بچانے کا ایک اچھا طریقہ ہے، ورنہ جگہ جگہ پیشاب ہو گا اور سارا گھر پلید ہو گا، البتہ یہ ضروری ہے کہ پیشاب کو برتن میں زیادہ دیر تک نہ رہنے دیا جائے کیونکہ بدبو کے علاوہ یہ خدشہ بھی ہے کہ کوئی پالتو جانور اسے پانی سمجھ کر پی لے یا برتن سے ٹکرا جائے اور پیشاب گھر میں گر جائے، لہٰذا صبح ہوتے ہی اسے گھر سے باہر یا مخصوص جگہ میں گرا دیا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 32]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 24
عذر کی بنا پر رفع حاجت
«. . . عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ . . .»
. . . امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ (رہتا) تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پیشاب کرتے تھے۔ . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 24]
فوائد و مسائل:
 بیماری، سردی یا کسی دوسرے عذر کی بنا پر انسان کسی برتن میں پیشاب کر لے اور بعد میں اسے باہر گرا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 24]