🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب المرأة تصوم بغير إذن زوجها
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے (نفل) روزے رکھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2458
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ البیوع 12 (2066)، النکاح 84 (5192)، النفقات 5 5360)، صحیح مسلم/الزکاة 26 (1026)، سنن الترمذی/الصوم 65 (782)، سنن ابن ماجہ/الصیام 53 (1761)، (تحفة الأشراف: 14695، 14793)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/361)، سنن الدارمی/الصوم 20 (1761) (صحیح) دون ذکر رمضان» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون ذكر رمضان
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5192) صحيح مسلم (1026)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥همام بن منبه اليماني، أبو عقبة
Newهمام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← همام بن منبه اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5195
لا يحل للمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه لا تأذن في بيته إلا بإذنه ما أنفقت من نفقة عن غير أمره فإنه يؤدى إليه شطره
صحيح البخاري
5192
لا تصوم المرأة وبعلها شاهد إلا بإذنه
صحيح مسلم
2370
لا تصم المرأة وبعلها شاهد إلا بإذنه لا تأذن في بيته وهو شاهد إلا بإذنه ما أنفقت من كسبه من غير أمره فإن نصف أجره له
جامع الترمذي
782
لا تصوم المرأة وزوجها شاهد يوما من غير شهر رمضان إلا بإذنه
سنن أبي داود
2458
لا تصوم المرأة وبعلها شاهد إلا بإذنه غير رمضان لا تأذن في بيته وهو شاهد إلا بإذنه
سنن ابن ماجه
1761
لا تصوم المرأة وزوجها شاهد يوما من غير شهر رمضان إلا بإذنه
صحيفة همام بن منبه
76
لا تصوم المرأة وبعلها شاهد إلا بإذنه لا تأذن في بيته وهو شاهد إلا بإذنه ما أنفقت من كسبه من غير أمره فإن نصف أجره له
بلوغ المرام
557
‏‏‏‏لا يحل للمراة ان تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2458 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2458
فوائد ومسائل:
روزے کی حالت میں زوجین کے مابین تعلقات زن و شو قائم نہیں ہو سکتے۔
علاوہ ازیں بھوک و پیاس کی وجہ سے طبیعت میں گرانی سی بھی آ جاتی ہے اور عین فطری بات ہے کہ شوہر بالعموم ایسی کیفیت گوارا نہیں کرتے اور اس کے نتائج نا مناسب ہو سکتےہیں۔
اس لیے شریعت نے ان کے تعلقات میں معمولی رخنہ آنے کی بھی اجازت نہیں دی اور عورت کو پابند کیا ہے کہ نفلی روزے کے لیے شوہر کی اجازت حاصل کرے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بیوی کو شوہر کی تسکین کے لیے انتہائی حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے، یہ علائق محض نفسیاتی نہیں بلکہ شرعی بھی ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2458]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 782
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 782]
اردو حاشہ:
1؎: ((لَا تَصُوْمُ)) نفی کا صیغہ جو نہی کے معنی میں ہے،
مسلم کی روایت میں ((لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُوْمَ)) کے الفاظ وارد ہیں،
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر کی موجودگی میں نفلی روزے عورت کے لیے بغیر شوہر کی اجازت کے جائز نہیں،
اور یہ ممانعت مطلقاً ہے اس میں یوم عرفہ اور عاشوراء کے روزے بھی داخل ہیں بعض لوگوں نے عرفہ اور عاشوراء کے روزے کو مستثنیٰ کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 782]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2370
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے خاوند کی موجود گی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے اور اس کے گھر میں اس کی موجودگی میں (اپنے کسی محرم کو) اس کی اجازت کے بغیر گھر نہ آنے دے اور اس کی (صریح) اجازت کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کرے گی تو اس کا آدھا اجر خاوند کو ملے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2370]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
عورت خاوند کے گھر سے عام استعمال کی اشیاء معمولی مقدار میں معاشرتی عرف کے مطابق خرچ کر سکتی ہے اور اس عرفی اجازت سے خاوند کے علم کے بغیر خرچ کیا گیا مال بھی خاوند کے لیے اجرو ثواب کا باعث ہے کیونکہ اس کا کسب کردہ ہے اور عورت بھی خرچ کرنے کے سبب ثواب میں حصہ دار ہے لیکن ہر ایک کا مستقل ثواب ہو گا۔
آدھا آدھا کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ایک ثواب ہے جو دونوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
(2)
کسی اجنبی یا غیر محرم کا کسی کے گھر میں آنا جانا درست نہیں ہے ہاں خاوند کی اجازت سے محرم یا غیر محرم رشتہ دار اس کی موجودگی میں آ سکتا ہے اور اس کی غیر حاضری میں بھی اس کی اجازت سے اس صورت میں آ سکتا ہے جب یہ آمدو رفت کسی خرابی کا باعث نہ ہو،
اس طرح عورت رمضان کے علاوہ روزے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نہیں رکھ سکتی تاکہ باہمی حسن معاشرت میں خلل پیدا نہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2370]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5192
5192. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر شوہر گھر میں موجود ہو تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5192]
حدیث حاشیہ:
نفلی روزہ نفلی عبادت ہے اور خاوند کی اطاعت عورت کے لئے فرض ہے۔
اس لئے نفلی عبادت سے فرض کی ادا ئیگی ضروری ہے۔
مرد دن میں اپنی بیوی سے ملاپ چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہوگا۔
لہٰذ ا پہلے ہی اجازت لے کر اگر روزہ رکھے تو بہتر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5192]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5195
5195. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے جبکہ اس کا شوہر موجود ہو۔ اور اسکی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔ اور جو شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ کرے توشوہر کو بھی اس آدھا ثواب ملے گا۔ اس حدیث کو ابو زناد نے بھی موسیٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روزہ رکھنے کے متعلق بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5195]
حدیث حاشیہ:
کسی غیر مرد کا بغیر اجازت خاوند کے گھر میں داخل ہونا بھی منع ہے۔
مراد یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کے حکم کے بغیر اس مال میں سے خرچ کرے جو خاوند نے اس کو دے ڈالا ہے یعنی اپنے ماہوار میں سے جیسے کہ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ عورت اپنے خاوند کا مال صدقہ نہیں کر سکتی مگر ہاں اپنی خوراک میں سے اور ثواب دونوں کو برابر ملے گا۔
وہ خرچ بھی مراد ہے جو عادت کے موافق ہو جسے سن کر خاوند ناراض نہ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5195]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5192
5192. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر شوہر گھر میں موجود ہو تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5192]
حدیث حاشیہ:
خاوند کی اطاعت فرض ہے اور نفلی روزہ ایک اضافی عبادت ہے، لہٰذا کسی صورت میں نفل کو فرض پر ترجیح نہیں دی جاسکتی، ہاں اگر شوہر سفر میں ہو تو عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھ سکتی ہے کیونکہ اس وقت شوہر اس سے کوئی خدمت نہیں لے سکتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5192]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5195
5195. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے جبکہ اس کا شوہر موجود ہو۔ اور اسکی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔ اور جو شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ کرے توشوہر کو بھی اس آدھا ثواب ملے گا۔ اس حدیث کو ابو زناد نے بھی موسیٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روزہ رکھنے کے متعلق بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5195]
حدیث حاشیہ:
شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر آنے کی اجازت دینے سے اس کے دل میں بدگمانی پیدا ہونے کا خطرہ ہے جو آئندہ عائلی زندگی میں زہر گھول سکتی ہے، لیکن اس ممانعت سے ضروریات مستثنیٰ ہیں، مثلاً:
کسی کا اس گھر میں حق ہو یا وہ کوئی ایسی جگہ ہو جو مہمانوں کے لیے مخصوص ہو۔
(فتح الباري: 369/9)
بعض لوگوں نے عورت کے باپ کو بھی اس سے مستثنیٰ کیا ہے لیکن ہمارے رجحان کے مطابق وہ بھی اس امتناعی حکم میں شامل ہے۔
والله اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5195]