🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب المعتكف يدخل البيت لحاجته
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ.
زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15901) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2035)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← الحكم بن نافع البهراني
ثقة حافظ جليل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2471 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2471
فوائد ومسائل:
(1) بیوی اور دیگر تعلق داروں کو معتکف ست ملاقات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اور ظاہر ہے کہ یہ ملاقاتیں ایک حد تک ہونی چاہئیں اور اس اثنا میں ضروری گفتگو بھی ہو سکتی ہے۔
(2) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حالت اعتکاف میں ملاقات کا یہ واقعہ صحیح بخاری (حدیث:2035) میں بھی ہے۔
اس میں صراحت ہے کہ حضرت صفیہ (زوجہ مطہرہ) کا گھر مسجد کے دروازے سے متصل ہی تھا، اس لیے رخصت کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے تک ان کے ساتھ معتکف سے باہر آئے۔
بنا بریں اس واقعے سے یہ استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کہ معتکف بیوی کو گھر تک چھوڑنے کے لیے مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔
ہاں حوائج ضروریہ کا انتظام مسجد کے اندر نہ ہو تو بات اور ہے۔
ان کے لیے باہر جانا مجبوری کے تحت جائز ہو گا۔

(3) انسان کو بالعموم اور حساس مناصب پر فائز شخصیات کے لیے بالخصوص ضروری ہے کہ اپنے آپ کو ہر طرح کے شبہات سے پاک رکھیں۔
اور کسی متوقع شبہ کا قبل از وقوع ازالہ کر دینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2471]