سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب في الهجرة هل انقطعت
باب: کیا ہجرت ختم ہو گئی؟
حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2479]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہجرت ختم نہیں ہو سکتی، حتیٰ کہ توبہ منقطع ہو جائے، اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہوگی، حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/99)، دي / السیر 70 (2555) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے اگر ممکن ہو تو دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف، اور دارالمعاصی سے دارالصلاح کی طرف ہجرت ہمیشہ بہتر ہے، ورنہ فی زمانہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے شہری کو اپنے یہاں منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2346)
وللحديث شاھد عند أحمد (1/192) والطحاوي في مشكل الآثار (3/259)
مشكوة المصابيح (2346)
وللحديث شاھد عند أحمد (1/192) والطحاوي في مشكل الآثار (3/259)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2479
| لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة لا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2479 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2479
فوائد ومسائل:
سورج کا مٖغرب سے طلوع ہونا آثار قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔
اور اس وقت تک توبہ کرنے کا کھلا موقع ہے۔
اس طرح دین وایمان کی حفاظت کے لئے اگر انسان دارالکفر کوچھوڑے اور دارالسلام میں سکونت اختیار کرے تو اس کے مہاجر ہونے میں کوئی مانع نہیں ہے۔
سورج کا مٖغرب سے طلوع ہونا آثار قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔
اور اس وقت تک توبہ کرنے کا کھلا موقع ہے۔
اس طرح دین وایمان کی حفاظت کے لئے اگر انسان دارالکفر کوچھوڑے اور دارالسلام میں سکونت اختیار کرے تو اس کے مہاجر ہونے میں کوئی مانع نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2479]
Sunan Abi Dawud Hadith 2479 in Urdu
أبو هند البجلي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي