Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب في النهى عن السياحة
باب: سیاحت کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4901) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (724)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن عبد الرحمن الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥العلاء بن الحارث الحضرمي، أبو محمد، أبو وهب
Newالعلاء بن الحارث الحضرمي ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
صدوق رمي بالقدر
👤←👥الهيثم بن حميد الغساني، أبو أحمد، أبو الحارث
Newالهيثم بن حميد الغساني ← العلاء بن الحارث الحضرمي
ثقة
👤←👥محمد بن عثمان التنوخي، أبو الجماهر، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عثمان التنوخي ← الهيثم بن حميد الغساني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2486
سياحة أمتي الجهاد في سبيل الله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2486 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2486
فوائد ومسائل:

سیروسیاحت کی عام عرفی مفہوم میں شریعت کے اندر کوئی حیثیت نہیں، جیسے کے خوش حال بے فکرے لوگ کسی اہم مقصد کے بغیر ہی ملک ملک گھومتے پھرتے ہیں۔
اس میں بالمعوم مال کا اسراف ہے۔
اور وقت کا ضاع بھی۔
شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
جبکہ مسلمان کی پوری زندگی با مقصد اعمال میں بسر ہوتی ہے۔
اسلام میں اس کا نعم البدل جہاد ہے۔
اور قرآن مجید میں جوکئی مقامات (سِيرُوا فِي الْأَرْضِ) کا حکم ہے۔
وہ علم اور تدبر فی الانفس والآفاق کی غرض سے ہے۔
اس نیت سے سیاحت میں کوئی حرج نہیں۔
اور جہاد کی سیاحت ان سب اغراض کی جامع ہے۔


صوفیاء کی سیاحت کا شریعت میں کوئی جواز نہیں سوائے اس کے کہ تعلیم وتعلم کی غرض سے ہو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2486]