سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في النهى عن السياحة
باب: سیاحت کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4901) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (724)
مشكوة المصابيح (724)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2486
| سياحة أمتي الجهاد في سبيل الله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2486 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2486
فوائد ومسائل:
1۔
سیروسیاحت کی عام عرفی مفہوم میں شریعت کے اندر کوئی حیثیت نہیں، جیسے کے خوش حال بے فکرے لوگ کسی اہم مقصد کے بغیر ہی ملک ملک گھومتے پھرتے ہیں۔
اس میں بالمعوم مال کا اسراف ہے۔
اور وقت کا ضاع بھی۔
شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
جبکہ مسلمان کی پوری زندگی با مقصد اعمال میں بسر ہوتی ہے۔
اسلام میں اس کا نعم البدل جہاد ہے۔
اور قرآن مجید میں جوکئی مقامات (سِيرُوا فِي الْأَرْضِ) کا حکم ہے۔
وہ علم اور تدبر فی الانفس والآفاق کی غرض سے ہے۔
اس نیت سے سیاحت میں کوئی حرج نہیں۔
اور جہاد کی سیاحت ان سب اغراض کی جامع ہے۔
2۔
صوفیاء کی سیاحت کا شریعت میں کوئی جواز نہیں سوائے اس کے کہ تعلیم وتعلم کی غرض سے ہو۔
1۔
سیروسیاحت کی عام عرفی مفہوم میں شریعت کے اندر کوئی حیثیت نہیں، جیسے کے خوش حال بے فکرے لوگ کسی اہم مقصد کے بغیر ہی ملک ملک گھومتے پھرتے ہیں۔
اس میں بالمعوم مال کا اسراف ہے۔
اور وقت کا ضاع بھی۔
شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
جبکہ مسلمان کی پوری زندگی با مقصد اعمال میں بسر ہوتی ہے۔
اسلام میں اس کا نعم البدل جہاد ہے۔
اور قرآن مجید میں جوکئی مقامات (سِيرُوا فِي الْأَرْضِ) کا حکم ہے۔
وہ علم اور تدبر فی الانفس والآفاق کی غرض سے ہے۔
اس نیت سے سیاحت میں کوئی حرج نہیں۔
اور جہاد کی سیاحت ان سب اغراض کی جامع ہے۔
2۔
صوفیاء کی سیاحت کا شریعت میں کوئی جواز نہیں سوائے اس کے کہ تعلیم وتعلم کی غرض سے ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2486]
القاسم بن عبد الرحمن الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي