🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب فضل قتال الروم على غيرهم من الأمم
باب: دوسری قوموں کے مقابلے میں رومیوں سے لڑنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلَّادٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ، فَقَالَتْ: إِنْ أُرْزَأَ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ" قَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ".
قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2488]
جناب عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے، وہ دادا (ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی جس کا نام ام خلاد رضی اللہ عنہا تھا، اس نے نقاب ڈالا ہوا تھا، وہ اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کر رہی تھی جبکہ وہ (جہاد میں) مارا گیا تھا۔ اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے اس سے کہا: تم اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کرنے آئی ہو اور نقاب ڈال رکھا ہے؟ (ایسی پریشانی میں پردے کا یہ اہتمام؟) اس نے کہا: اگر میرا بیٹا کھو گیا ہے تو میں نے اپنی حیا تو نہیں کھوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کو دو شہیدوں کا ثواب ہے۔ اس نے پوچھا: یہ کیوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ اس کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2068) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبد الخبیر مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فرج بن فضالة ضعيف
وعبدالخبير بن ثابت مجهول الحال (تق : 3780) ضعفه أبو حاتم وغيره،وضعفه راجح
وشيخه قيس بن ثابت:مجهول (انظر التحرير:5563)
فالسند مظلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 92

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثابت بن قيس الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥قيس بن ثابت الأنصاري
Newقيس بن ثابت الأنصاري ← ثابت بن قيس الأنصاري
مقبول
👤←👥عبد الخبير بن ثابت الأنصاري
Newعبد الخبير بن ثابت الأنصاري ← قيس بن ثابت الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥فرج بن فضالة التنوخي، أبو فضالة
Newفرج بن فضالة التنوخي ← عبد الخبير بن ثابت الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← فرج بن فضالة التنوخي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن سلام الجمحي، أبو القاسم
Newعبد الرحمن بن سلام الجمحي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2488
له أجر شهيدين قالت ولم ذاك يا رسول الله قال لأنه قتله أهل الكتاب
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2488 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2488
فوائد ومسائل:
یہ حدیث واعظوں کی بدولت خاصی مشہور ہے۔
لیکن ضعیف ہے۔
اس لئے اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2488]

Sunan Abi Dawud Hadith 2488 in Urdu