🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في فضل الرباط
باب: سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2500]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مرنے والے کا عمل (اس کے مرنے پر) ختم ہو جاتا ہے، مگر مورچہ بند کہ اس کا عمل قیامت تک کے لیے بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے عذاب سے (یا منکر و نکیر کے سوال جواب) سے امن میں رہتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل الجھاد 2 (1621)، (تحفة الأشراف: 11032)، وقد أخرجہ: (حم 6/20، 22) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3823)
أخرجه الترمذي (1621 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فضالة بن عبيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥عمرو بن مالك الهمداني، أبو علي
Newعمرو بن مالك الهمداني ← فضالة بن عبيد الأنصاري
ثقة
👤←👥حميد بن هانئ الخولاني، أبو هانئ
Newحميد بن هانئ الخولاني ← عمرو بن مالك الهمداني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← حميد بن هانئ الخولاني
ثقة حافظ
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1621
كل ميت يختم على عمله إلا الذي مات مرابطا في سبيل الله فإنه ينمى له عمله إلى يوم القيامة ويأمن من فتنة القبر
سنن أبي داود
2500
كل الميت يختم على عمله إلا المرابط فإنه ينمو له عمله إلى يوم القيامة ويؤمن من فتان القبر
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2500 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2500
فوائد ومسائل:
یہ فضیلت دشمن کے سامنے مورچہ بند ہونے کی ہے۔
تو جو شخص کفار سے پنجہ آزمائی کرتا۔
اور قتل ہوتا یا قتل کرتا ہو۔
اس کے درجات اور بھی زیادہ ہوں گے۔
قرآن مجید نے اس عمل کی ترغیب میں فرمایا ہے۔
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٢٠٠﴾ (آل عمران۔
200)  اے ایمان والو! صبر کرو۔
ثابت قدم رہو۔
مورچوں پرجمے رہو۔
اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
تاکہ کامیاب ہوجائو جہاد قتال سے ملتا جلتا کام مثلا مشکل حالات میں اشاعت توحید وسنت اوررد شرک وبدعت جو کہ درس وتدریس اور تحریروتقریر کے ذریعے سے ہو اس کے متعلق بھی توقع کی جانی چاہیے۔
کہ حسب نیت یہ بھی ایک عظیم رباط ومرابطہ ہے۔
چنانچہ اساتذہ مبلغین اور مولفین قلعہ اسلام کی فکری حدود کے مورچہ بند ہیں جب تک ان کی باقیات۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2500]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1621
مرابط (سرحد کی پاسبانی کرنے والے) کی موت کی فضیلت کا بیان۔
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1621]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی نفس امارہ جوآدمی کو برائی پر ابھارتا ہے،
وہ اسے کچل کر رکھ دیتا ہے،
خواہشات نفس کا تابع نہیں ہوتا اور اطاعت الٰہی میں جو مشکلات اور رکاوٹیں آتی ہیں،
ان پر صبر کرتاہے،
یہی جہاد اکبر ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1621]

Sunan Abi Dawud Hadith 2500 in Urdu